Urdu book · اظہارِ دین

ایک غلط فہمی

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک غلط فہمی کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آج کی دنیا میں بہت سے دوسرے لوگ خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے ماننے جانتے ہیں۔ مثلاً ہندو لوگ رام اور کرشن کو پیغمبر کا درجہ دیتے ہیں۔ اسی طرح مسیحی لوگ حضرت مسیح کو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا خصوصی رہنما سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ جہاں تک رام اور کرشن کا تعلق ہے، اس بحث کے ذیل میں اُن کو زیر غور لانا ممکن نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ رام اور کرشن ایک افسانوی شخصیت (mythological figure) کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کو تاریخی شخصیت (historical figure) کا درجہ حاصل نہیں۔ انڈیا کے کسی بھی مستند تاریخی ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رام اور کرشن کوئی حقیقی شخصیت تھے۔ رام اور کرشن کا کوئی ریفرنس نہ انڈیا کی تاریخ میں پایا جاتا ہے اور نہ عالمی تاریخ میں۔ مثال کے طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم خالص تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر یہ جانتے ہیں کہ وہ 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 610ء میں مکہ میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیا اور اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 622ء میں آپ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور وہاں انھوں نے اسلام کی پہلی اسٹیٹ (city state) قائم کی۔ 632ء میں آپ کی وفات مدینہ میں ہوئی اور یہیں پر آپ دفن کیے گئے۔ آپ کی قبر اب بھی مدینہ میں موجود ہے۔ اس قسم کی تاریخی معلومات (historical data) نہ رام کے بارے میں دست یاب ہیں اور نہ کرشن کے بارے میں۔ یہ حقیقت اتنی زیادہ واضح ہے کہ خود ہندو اسکالر اس کو مانتے ہیں۔ ہندو مصنفین نے اس موضوع پر مقالات اور کتابوں کی صورت میں بہت زیادہ لکھا ہے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو: The JNU historians reject the Ramayana as a source of historiography: "The events of the stroy of Rama, originally told in the Rama-Katha which is no longer available to us, were rewritten in the form of a long epic poem, the

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page