تحریکوں کی تاریخ
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
تحریکوں کی تاریخ لارڈ ایکٹن (John Emerich Edward Dalberg Acton) مشہور مغربی مفکر ہے۔ وہ 1834ء میں پیدا ہوا اور 1902ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سیاست اور حکومت کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر اس نے سیاسی اقتدار ( political power ) کے بارے میں کہا کہ ــ اقتدار بگاڑتا ہے، اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے: Power corrupts, and absolute power corrupts absolutely. یہ تبصرہ بالکل درست ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو جب بھی اقتدار ملتا ہے تو وہ بگڑ جاتا ہے۔ دوسروں کی سیاسی بُرائی بتانے والے، اقتدار پاتے ہی خود بھی اُسی قسم کی بُرائی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنی بڑائی کا احساس نہایت گہرے طور پر موجود ہے۔ اقتدار اس احساس کو غذا دیتا ہے، وہ اس کو ختم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اقتدار تک پہنچتے ہی تمام لوگ بگڑ جاتے ہیں۔ اِس سلسلے میں تاریخ کی چند مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں: 1۔ تحریکوں کی تاریخ میں بہت سے مشہور لوگوں کے نام آتے ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کو سیاسی ہنگامہ کرنے والے تو بہت سے لوگ ملے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی قابل اعتماد ساتھی نہ مل سکے۔ مشہور فلسفی ارسطو (Aristotle ) اِس معاملے کی ایک تاریخی مثال ہے۔ وہ یونان میں 384 قبل مسیح میں پیدا ہوا اور 322 قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شاہ یونان الیگزنڈر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader