تحریکوں کی تاریخ
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
دی گریٹ (Alexander the Great) کا استاد تھا۔ وہ آئیڈیل اسٹیٹ اور فلاسفر کنگ میں یقین رکھتا تھا۔ اس نے اس مقصد کے لیے الیگزنڈر کی تعلیم و تربیت اُس وقت کی، جب کہ وہ ابھی شہزادہ تھا۔ ارسطو کو یقین تھا کہ الیگزنڈر ایک فلاسفر کنگ بنے گا اور اس کے خوابوں کی آئیڈیل اسٹیٹ قائم کرے گا۔ لیکن بڑا ہونے کے بعد جب الیگزنڈر 336 قبل مسیح میں باقاعدہ بادشاہ بنا تو اس نے ارسطو کے راستے کو چھوڑ دیا اور عالمی فتوحات کے لیے نکل پڑا۔ اس کا سیاسی خواب ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ وہ صرف 33 سال کی عمر میں بیمار ہو کر بابل (عراق) میں مر گیا۔ 2۔ یہی معاملہ کارل مارکس (Karl Marx) کا ہے۔ وہ 1818ء میں جرمنی میں پیدا ہوا اور 1883ء میں لندن میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے افکار کی بنیاد پر بہت بڑی کمیونسٹ تحریک اُٹھی۔ 1917ء میں کمیونسٹ پارٹی روس میں حکومت کرنے میں کامیاب ہوگئی، لیکن مارکس کے تمام ساتھی اصل مارکسی راستے سے ہٹ گئے۔ ایک کمیونسٹ مسٹر میلوون جیلاس (Milovan Djilas) کے الفاظ میں، طبقاتی فرق کو ختم کرنے کے نام پر کمیونسٹ گروہ خود ایک نیا طبقہ (new class) بن گیا۔ ٹراٹسکی (Leon Trotsky) روس میں 1879ء میں پیدا ہوا اور 1940ء میں میکسکو سٹی میں اس کو قتل کر دیا گیا۔ ٹراٹسکی کمیونسٹ پارٹی میں لینن کے بعد نمبر دو کا لیڈر تھا، مگر 1917ء کے بعد اُس نے دیکھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے لوگ سیاسی بگاڑ کا شکار ہو گئے۔ اس نے انقلاب سے غداری (Revolution Betrayed) کے نام سے ایک کتاب لکھی جو 1937ء میں چھپی۔ اس کے بعد خود روس کے کمیونسٹ لیڈروں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ 3۔ یہی منظر خود انڈیا میں نظر آتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے زبردست سیاسی تحریک چلائی۔ ان کے ساتھ ایک بھیڑ اکٹھا ہوگئی، لیکن 1947ء میں آزادی کے بعد ان کی پارٹی کے تمام لوگ مہاتما گاندھی کے راستے سے ہٹ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر خود مہاتما گاندھی نے 1947ء کے بعد اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader