اظہارِ دین
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
پارٹی کے لوگوں کے بارے میں کہا تھا — اب میری کون سنے گا۔ مہاتما گاندھی کے اس جملے کو لے کر ایک کتاب ہندی میں لکھی گئی۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہی ہے کہ — "اب میری کون سنے گا"۔ 15 اگست 1947 کو انڈیا میں سیاسی آزادی آئی۔ اس کے بعد 30 جنوری 1948ء کو دہلی میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہیرؤوں کی جماعت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو استثنائی واقعات جمع ہوئے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کی ایک ایسی ٹیم بنانے میں کامیاب ہوئے، جیسی ٹیم پوری تاریخ میں کوئی نہ بنا سکا۔ اس واقعے کا اعتراف مورخین نے واضح الفاظ میں کیا ہے۔ مثلاً مشہور برطانی مستشرق ڈیوڈ سموئل مارگولیتھ (David Samuel Margoliouth) 1885 میں لندن میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں عربک ڈپارٹمنٹ کا پروفیسر تھا۔ اُس نے عرب تاریخ اور اسلامی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانکا نے اُس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں — اُس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کو اسلامی موضوعات پر بہت سے عرب علما سے بھی زیادہ واقفیت حاصل تھی: He came to be regarded as more knowledgeable on Islamic matters than most Arab scholars. اسلام اور عرب تاریخ کے موضوع پر اس کی کئی کتابیں ہیں۔ اس کی ایک کتاب وہ ہے جو 1905 میں چھپی۔ یہ کتاب اسلام کے ظہور کے موضوع پر ہے اور اس کا نام یہ ہے: Muhammad and the Rise of Islam اس کتاب میں پروفیسر مارگولیتھ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو ہیرؤوں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اصحابِ رسول کا گروہ ایک ایسا گروہ تھا، جیسا گروہ تاریخ میں کسی اور شخص کے گرد اکٹھا نہیں ہوا۔ اسی طرح فلپ ہٹی (Philip K. Hitti) مشہور اسکالر ہیں۔ وہ 1886 میں لبنان میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader