مستقبل کی دنیا
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مصنف الون ٹافلر (Alvin Toffler) نے پہلی بار 1970 میں شائع کیا۔ یہ کتاب شائع ہوتے ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔ اس کتاب میں مصنف نے تیقن کے ساتھ یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دنیا تیزی کے ساتھ انڈسٹریل ایج سے ترقی کر کے سپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ سوویلائزیشن کا اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کی تمام مادی خواہشیں اپنا مکمل فلفل منٹ (fulfilment) پالیں۔ مگر اکیسویں صدی کا آغاز اس قسم کے تمام اندازوں کے خاتمے کے ہم معنی بن گیا۔ اب شدت کے ساتھ وہ ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ انڈسٹریل سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی کثافت نے سیارہ زمین پر ایسے حالات پیدا کیے، جب کہ یہ دنیا سرے سے انسان کے لیے قابل رہائش (habitable) ہی نہیں رہے گی۔ آج کل میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آ رہی ہیں کہ تمام دنیا کے سائنس دانوں نے گہری ریسرچ کے بعد یہ پایا ہے کہ ہماری زمین میں موسمیاتی تبدیلی (climatic change) اس خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ غیر منقلب (irreversible) ہو چکی ہے۔ یہ سائنس کی زبان میں قیامت کی پیشین گوئی ہے، یعنی زمین پر موجودہ حالات کا خاتمہ اور ایک نئی تاریخ کا آغاز۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (18 نومبر 2007) نے گلوبل وارمنگ کے موضوع پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کے عنوان کے لیے اُس نے بامعنی طور پر ان الفاظ کا انتخاب کیا تھا— قیامت اب زیادہ دور نہیں: Doomsday not Far یہ صورت حال ایک طرف سیکولر آئیڈیالوجی کی تنسیخ کر رہی ہے، اور دوسری طرف وہ ہم کو یہ قرینہ (clue) دے رہی ہے کہ اس معاملے میں مذہبی آئیڈیالوجی زیادہ درست اور مبنی بر حقیقت ہے۔ مذہبی آئیڈیالوجی جو پیغمبروں کے ذریعے معلوم ہوئی، وہ یہ ہے کہ موجودہ سیارہ زمین اس لیے بنایا ہی نہیں گیا کہ یہاں انسان اپنے لیے مادی جنت کی تعمیر کر سکے۔ یہاں کے ناقص اسباب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader