Urdu book · اظہارِ دین

فطرت کی تسخیر

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

نظر سے دیکھتا تھا، اس لیے وہ اس کو تحقیق و تفتیش (exploration) کی نظر سے نہ دیکھ سکا۔ اس طرح، شرک ایک مستقل ذہنی رکاوٹ (mental block) بن گیا۔ علمی دلائل جن کو قرآن میں آیات (نشانیاں) کہا گیا ہے، وہ عالم فطرت میں موجود تھیں، مگر وہ ظاہر ہو کر سامنے نہ آسکیں۔ قرآن میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) ۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ مفسرین کے مطابق ، اس آیت میں 'فتنہ' سے مراد شرک جارح ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا گیا کہ شرک کو ختم کرو، خواہ ارباب شرک کی جارحیت کی بنا پر اُن کے مقابلے میں جنگ کرنا پڑے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کی کوششوں کے نتیجے میں شرک کا سیاسی اور اجتماعی غلبہ دنیا سے ختم ہو گیا۔ اس کے بعد دنیا میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ ایک لفظ میں اس کو فطرت کی پرستش کے بجائے، فطرت کی تسخیر کا عمل کہا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ فطرت (نیچر) میں چھپے ہوئے دلائل سامنے آگئے۔ یہ تاریخی عمل اسلام کے ابتدائی زمانے میں شروع ہوا اور یورپ کی نشاءۃ ثانیہ کے بعد وہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ خدائی حقیقتوں کو روایتی دلائل کے بجائے سائنسی دلائل کے ذریعے ثابت شدہ بنایا جا سکے ۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے: 1 ۔ خدا کے وجود پر قرآن میں ایک دلیل یہ دی گئی تھی کہ : أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (14:10) ۔ یعنی ، کیا خدا کے بارے میں شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کو پھاڑنے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں لفظ فاطر (پھاڑنے والا) خدا کے وجود کا ایک ثبوت ہے۔ کیوں کہ پھاڑنا ایک بالقصد مداخلت (intervention) کا عمل ہے۔ اور بالقصد مداخلت کا عمل ایک مداخلت کار (intervener) کا ثبوت ہے۔ اور جب مداخلت کار کا وجود ثابت ہو جائے تو اپنے آپ خدا کا وجود (existence of God) ثابت ہو جاتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں خدا کے وجود (existence of God) کا ایک علمی ثبوت موجود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page