فطرت کی تسخیر
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، لیکن اس علمی ثبوت کی وضاحت صرف دورِ سائنس کے بعد ہوئی۔ بیسویں صدی کے رُبعِ اوّل میں سائنس دانوں نے اُس کا ئناتی واقعے کو دریافت کیا، جس کو بگ بینک (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ بگ بینک کی دریافت کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ مذکورہ قرآنی آیت میں چھپے ہوئے سائنسی دلائل کو سمجھا جائے اور اس کو استعمال کیا جائے۔ 2۔ قرآن کی سورۃ الجاثیہ میں خدا کی ایک نعمت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اللَّهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ (45:12) ۔ یعنی، اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے سمندر کو مسخر کر دیا، تاکہ اُس کے حکم سے سمندر میں کشتیاں چلیں۔ قرآن کی اس آیت میں ایک عظیم حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ قدیم روایتی زمانے کا انسان اس معاملے کو صرف ایک پُر اسرار عقیدے کے طور پر لیتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں اس کی توجیہ، ایک معلوم فطری قانون کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک جدید سائنس ظہور میں آئی ہے، جس کو علمِ سکونِ سیالات (science of hydrostatics) کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق، پانی یا سیّال چیزیں ایک خاص قانون کے تابع ہیں۔ اور وہ تخفیفِ وزن (buoyancy) یا ٹھوس اجسام کو پانی میں ڈالنے سے اس کو بہ حال رکھنے یا ابھارنے کی صلاحیت ہے: (Buoyancy) The upward pressure by any fluid on a body, partly or wholly, immersed therein, it is equal to the weight of the fluid displaced. اس جدید سائنس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کی مذکورہ آیت کو خالص علمِ انسانی کی بنیاد پر سمجھا جا سکے۔ اور خدا کے اس عظیم احسان پر یقین کیا جائے کہ اُس نے سمندر کو ایک محکم قانون کا پابند بنا دیا۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا کہ وسیع سمندروں کی سطح پر انسان کشتی اور جہاز کے ذریعے سفر کر سکے اور وہ دور دراز منزل تک بہ آسانی پہنچ جائے۔ 3۔ خدا کی ایک نعمت کا ذکر قرآن کی سورۃ ق میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَنَزَّلْنَا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader