Urdu book · اظہارِ دین

فطرت کی تسخیر

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا (50:9) ۔ یعنی، ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا۔ قرآن کی اس آیت میں خدا کی ایک عظیم نعمت کا ذکر ہے۔ قدیم زمانے میں یہ بات صرف ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتی تھی ، مگر سائنسی دریافتوں کے بعد وہ ایک عظیم علمی دلیل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ قرآن کی اس آیت میں بارش کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بارش کیا ہے؟ بارش دراصل سمندر کا پانی ہے، جو بھاپ بن کر اوپر جاتا ہے اور پھر مخصوص قانون کے تحت دوبارہ وہ نیچے کی طرف لوٹتا ہے، جس کو بارش کہتے ہیں ۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کا پانی کھاری ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیوں کہ سمندر کے پانی میں 1/10 حصہ نمک شامل رہتا ہے۔ یہ نمک سمندر کے پانی میں تحفظی مادہ (preservative) کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ چوں کہ پانی کے مقابلے میں نمک کا وزن کسی قدر زیادہ ہوتا ہے، اس لیے جب سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے بھاپ بن کر اوپر کی طرف اٹھتا ہے تو اس کا نمک کا حصہ نیچے رہ جاتا ہے۔ یہ ازالۂ نمک (desalination) کا ایک عمل ہے، جو خدا کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ سمندر کا کھاری پانی ہم کو شیریں پانی کی صورت میں دست یاب ہوتا ہے۔ اس عمل کے بغیر سمندر کا پانی ہمارے لیے قابل استعمال ہی نہ ہوتا۔ کولرج (Coleridge) ایک برٹش شاعر ہے۔ اس کی وفات 1834 میں ہوئی ۔ اس نے ایک نظم لکھی ہے۔ اس نظم میں اس نے بتایا ہے کہ لکڑی کا بنا ہوا ایک جہاز سمندر میں سفر کے لیے روانہ ہوا۔ درمیان میں سخت طوفان آیا۔ اُس کے نتیجے میں جہاز ٹوٹ گیا ۔ بہت سے لوگ پانی میں ڈوب گئے ۔ ایک مسافر کو جہاز کا ایک تختہ مل گیا۔ وہ اس تختے کے اوپر لیٹ گیا اور پانی میں تیرنے لگا۔ وہ پیاسا تھا، لیکن وہ اپنی پیاس بجھا نہیں سکتا تھا، کیوں کہ اُس کے آس پاس جو پانی تھا، وہ سب کا سب کھاری پانی تھا۔ شاعر اس کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ـــ ہر طرف پانی ہے، لیکن ایک قطرہ بھی پینے کے لیے نہیں: Water water everywhere, nor a drop to drink.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page