فطرت کی تسخیر
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے پانی کو مبارک (purified) بنا کر آسمان سے اتارا۔ یہ بلاشبہ خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ قدیم زمانے میں یہ معاملہ ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس کی دریافتوں نے اس کو ایک عظیم قابلِ شکر حقیقت بنا دیا۔ 4۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بار سورج گرہن پڑا۔ اتفاق سے اُسی دن پیغمبرِ اسلام کے بیٹے ابراہیم کا کم عمری میں انتقال ہو گیا تھا۔ مدینہ کے لوگوں نے اُس کو دیکھا تو انھوں نے کہا کہ ــــ پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوا تھا، اِس لیے آج یہ سورج گرہن واقع ہوا ہے: كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1043)۔ لوگوں کا ایسا کہنا قدیم زمانے کے رواج کی بنا پر تھا۔ کیوں کہ اُس زمانے میں لوگ اِسی قسم کے واقعات کو گرہن کا سبب سمجھتے تھےـ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کو وہاں کی مسجد میں اکٹھا کیا اور انھیں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَإِذَا كَانَ ذَاكَ فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1063)۔ یعنی، کسی کے مرنے اور کسی کے جینے سے چاند اور سورج میں گرہن واقع نہیں ہوتا، بلکہ وہ خدائی نشانیوں میں سے دو نشانی ہیں۔ پس جب تم اُن کو دیکھو تو تم نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو، یہاں تک کہ گرہن کھل جائے۔ اِس حدیثِ رسول میں سورج گرہن اور چاند گرہن کو نشانی (signs) کہا گیا ہے۔ قدیم زمانے کے مخاطبین اپنے روایتی فریم ورک کے اعتبار سے اتنا ہی سمجھ سکتے تھے۔ لیکن موجودہ زمانے میں لوگوں کا فریم ورک سائنٹفک فریم ورک بن چکا ہے۔ اب آج کا انسان اِس قابل ہو گیا ہے کہ وہ خالص علمی معنوں میں اِس حقیقت کو سمجھ سکے۔ اور اِس طرح زیادہ گہرائی کے ساتھ وہ معرفت کا رزق حاصل کرے۔ موجودہ زمانے میں جدید فلکیات کے تحت مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین اور سورج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader