ایک یادگار دن
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
مبتدعانہ گروہ بن کر رہ گئے۔ اس کا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ جن افراد نے اس دوسرے دھارے کی نمائندگی کی، وہ اپنے مشن کے لیے پوری طرح اہل (competent) نہ تھے۔ اُن کا مدعا اصلاً غلط نہ تھا، لیکن وہ طاقت ور انداز میں اس کی درست نمائندگی نہ کرسکے۔ اس بنا پر وہ اپنے اصل مقصد، دورِ جدید کے اعتبار سے امت کور رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے، اسلام کی دعوت کو اپنا موضوع بنایا۔ اس سلسلے میں میں نے وسیع مطالعے کے ذریعے اسلام اور جدید تحدیات (modern challenges) کو سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے پایا کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ اسلام جدید دور میں غیر متعلق (irrelevant) ہو گیا ہے۔ اسلام کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ جدید ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین نے جو کتابیں لکھی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب قدیم روایتی اسلوب میں ہیں۔ اِس قسم کی کتابیں جدید تحدیات کا جواب نہیں بن سکتیں۔ یہ کتابیں آج کے ذہن کو اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنے کے لیے یقینی طور پر نا کافی ہیں۔ اس معاملے کا موضوعی مطالعہ (objective study) کرنے کے بعد میں نے پایا کہ جدید دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ روایتی ذہنی فریم ورک اب ٹوٹ گیا ہے۔ آج کے انسان کا ذہنی فریم ورک اُس سے بالکل مختلف ہے جو قدیم زمانے کے انسان کا ہوا کرتا تھا۔ ماڈرن افکار کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ ان میں سے کچھ کتابوں کے نام یہ ہیں: 1. Thomas Paine, The Age of Reason (1994) 2. J.F. West, The Great Intellectual Revolution (1965) 3. Julian Huxley, Religion without Revelation (1927) 4. A.A.A. Faizi, A Modern Approach to Islam (1963) 5. Philip Hodgkiss, The Making of the Modern Mind (2001) 6. John Herman Randall, The Making of the Modern Mind (1926) 7. Brinton Corone, The Shaping of the Modern Mind (1953) 8. W. T. Stace, Religion and the Modern Mind (1952)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader