ایک یادگار دن
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
کامیاب دعوت وہ ہے جو مخاطب کے مائنڈ کو ایڈریس کرے ۔ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ قدیم روایتی لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے ۔ گویا کہ آج داعی اور مدعو کے درمیان ایک فکری بُعد (intellectual gap) پیدا ہو گیا ہے ۔ اس لیے اسلامی دعوت کے سلسلے میں پہلا ضروری کام یہ ہے کہ اس فکری بُعد کو ختم کیا جائے تا کہ اسلام آج کے انسان کے لیے قابلِ فہم (understandable) اور قابلِ قبول (acceptable) بن سکے۔ اس معاملے میں ، میں نے اپنے مطالعے کے ذریعے جانا کہ اس اعتبار سے جو مسئلہ پیدا ہوا ہے ، وہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ لمبے فکری عمل کے بعد آج کے انسان کا ذہنی شاکلہ (framework) بدل گیا ہے ۔ یہ تبدیلی بنیادی طور پر دو چیزوں میں ہوئی ہے : 1۔ روایتی معیار کی جگہ سائنسی معیار کا ظہور میں آنا ۔ 2۔ حاکمانہ معیار کے بجائے جمہوری معیار کا رواج ۔ میں نے اپنے مطالعے کے دوران پایا کہ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین کا پیدا کردہ جو لٹریچر ہے ، وہ جدید سائنٹفک معیار پر پورا نہیں اترتا ۔ موجودہ دست یاب لٹریچر روایتی زبان میں لکھا گیا ہے ۔ وہ اُس سائنٹفک زبان میں نہیں لکھا گیا ہے جو موجودہ زمانے میں قبولیت کا درجہ حاصل کیے ہوئے ہے ۔ اِس طرح ، کتاب اور قاری کے درمیان جوذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہو گیا ہے ، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔ یہی معاملہ دوسرے پہلو کا ہے ۔ مسلمانوں کا موجودہ ذہن ، قدیم بادشاہی نظام کے تحت بنا ہے ، اِس لیے وہ اسلام کو جمہوری انداز میں پیش کرنے سے عاجز رہ گئے ۔ چنانچہ ان مسلمانوں کی باتیں اُس جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتیں جو چیزوں کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے ، جب کہ وہ جمہوری انداز میں پیش کی گئی ہوں ۔ مثلاً خلافت کا روایتی تصور قدیم شاہی ذہن کے لیے تو قابلِ تصور تھا ، لیکن جدید جمہوری ذہن کے لیے وہ قابل فہم نہیں۔ اِسی طرح توہینِ اسلام کے نام پر قتل کی سزا دینا جدید ذہن کے لیے نا قابل فہم ہے ، کیوں کہ جدید ذہن اِس طرح کی ”گستاخی‘‘ کے تصور سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader