ایک یادگار دن
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
نا آشنا ہے۔ وہ صرف یہ جانتا ہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی (freedom of expression) انسان کا ایک ایسا حق ہے جس کو کسی بھی عذر کی بنا پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی معاملہ مسلح جہاد (armed struggle) کا ہے۔ موجودہ زمانے میں صرف پر امن جدوجہد (peaceful struggle) کو قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ حق کے حصول کے لیے پر امن جدوجہد پوری طرح درست ہے، لیکن مسلح جدوجہد کسی بھی حال میں درست نہیں۔ ان اسباب کی بنا پر آج کے انسان کو وہ لٹریچر اپیل نہیں کرتا جو جمہوریت کی شرطوں پر پورا نہ اترتا ہو۔ لٹریچر کے اعتبار سے اسلامی تاریخ کے تین بڑے دور ہیں۔ پہلا دور، رسالت اور صحابہ کا دور ہے۔ یہ دور ساتویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس دور میں اسلام کا مستند (authentic) یا کلاسیکل لٹریچر (classical literature) وجود میں آیا۔ یہ لٹریچر عربی زبان میں ہے، اور قرآن اور حدیث اور سیرتِ رسول اور سیرتِ صحابہ پر مشتمل ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جو عباسی سلطنت کے زمانے میں شروع ہوا اور عثمانی سلطنت اور مغل سلطنت کے زمانے تک جاری رہا۔ یہ دور آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں اسلام کے مختلف پہلوؤں پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں، جو آج اسلامی کتب خانے کا تاریخی حصہ ہیں۔ یہ تمام کتابیں قبل از سائنس دور (pre-scientific era) میں لکھی گئیں۔ چنانچہ یہ کتابیں قدیم روایتی اسلوب میں ہیں، نہ کہ جدید سائنسی اسلوب میں۔ تیسرا دور وہ ہے جو مغرب کے نوآبادیاتی نظام کے زمانے میں ظہور میں آیا۔ یہ دور انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس تیسرے دور میں پرنٹنگ پریس وجود میں آ چکا تھا اور کاغذ سازی کی جدید صنعت قائم ہو چکی تھی۔ چنانچہ اس زمانے میں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں کتابیں لکھی اور چھاپی گئیں۔ یہ کتابیں عربی کے علاوہ دوسری مختلف زبانوں میں تھیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader