Urdu book · اظہارِ دین

ایک یادگار دن

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں کا امتداد (extention) بن گئیں، یعنی تحریر اور استدلال کا جو روایتی اسلوب دوسرے دور میں قائم ہوا، وہی بڑی حد تک، تیسرے دور میں بھی جاری رہا۔ تیسرا دور تحریر اور استدلال کے اسلوب کے اعتبار سے وہ دور تھا جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے، مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں میں اضافے کے ہم معنی بن گئیں۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ دوسرے دور میں تیار کی ہوئی کتابیں قلمی کتابیں ہوا کرتی تھیں، جب کہ تیسرے دور کی کتابیں مطبوعہ کتابوں کی صورت میں سامنے آئیں۔ شاہ ولی اللہ دہلوی اٹھارھویں صدی عیسوی کے مشہور عالم ہیں۔ ان کی وفات 1762 میں ہوئی۔ اسلامی عقليات کے موضوع پر ان کی کتاب ’حُجّۃُ اللہ البالغۃ‘ ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حُجّۃ اللہ البالغہ تیسرے دور کے آغاز میں لکھی گئی، مگر وہ پوری طرح روایتی فریم ورک کے مطابق لکھی گئی۔ اس اعتبار سے وہ دوسرے دور ہی کی ایک تکرار تھی۔ موجودہ زمانے میں اس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئیں، اُن میں سے ایک کتاب الجزائری عالم شیخ محمد حسین الجسر (وفات 1909) کی کتاب : الرِّسَالَةُ الحَمِیدِيَّةُ فِي حَقِيقَةِ الدِّيْنَةِ الإِسْلَامِيَّةِ ہے۔ اس کتاب کو مزید اضافے کے ساتھ ان کے صاحب زادے شیخ ندیم حسین الجسر (وفات 1980) نے شائع کیا ہے۔ اس دوسری کتاب کا نام یہ ہے: قصة الإيمان بين الفلسفة والعلم والقرآن (1961)۔ یہ کتاب پوری کی پوری فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے، نہ کہ سائنٹفک پیٹرن پر۔ اس لیے وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ اس موضوع پر ایک اور کتاب ڈاکٹر محمد اقبال (وفات 1938) کی ہے۔ یہ کتاب مصنف کے مختلف خطبات پر مشتمل ہے۔ وہ پہلی بار 1930 میں چھپی تھی۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The Reconstruction of Religious thought in Islam. ڈاکٹر اقبال کی یہ کتاب بھی فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے، اس لیے اس کا معاملہ بھی سابقہ کتاب جیسا ہے۔ وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی دعوتی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ میرے علم کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page