Urdu book · اظہارِ دین

ایک یادگار دن

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

جاری رہا۔ جدید دور میں سائنس کے زیر اثر مذکورہ اسالیب متروک ہو گئے۔ جدید سائنس، حقائق کے مطالعے کا نام تھی، اس لیے یہی اسلوب دیگر تصنیفی شعبوں میں بھی رائج ہو گیا۔ اس اسلوب کو ترتیب حقائق (arrangement of facts) کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں برٹرینڈ رسل کی کتابیں اسی سائنٹفک اسلوب کا ایک نمونہ ہیں۔ راقم الحروف نے اسی اسلوب کو اسلام کے تعارف کے لیے اپنایا۔ جہاں تک سائنٹفک اسلوب کے دوسرے پہلو کی بات ہے، یعنی اسلام کی توضیح و تفہیم میں سائنسی دلائل کو استعمال کرنا، اس کو دوسرے لفظوں میں، اسلام کا جدید علم کلام (modern theology) بھی کہا جا سکتا ہے۔ قدیم علم کلام، روایتی استدلال اور یونانی منطق پر قائم تھا۔ جدید علم کلام وہ ہے جو سائنسی استدلال پر قائم ہو۔ سائنسی استدلال سے مراد ہے ۔ جدید دریافت شدہ حقائق کی روشنی میں اسلام کے عقائد کو مدلل کرنا۔ راقم الحروف نے اس اعتبار سے متعدد کتابیں تیار کیں ۔ ان میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کا اردو ٹائٹل ’مذہب اور جدید چیلنج‘ (God Arises) ہے ۔ وہ مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ عربی زبان میں اس کا ٹائٹل ’الاسلام یتحدى‘ ہے۔ سائنس کی جدید دریافتوں کی بنیاد پر کلامیاتی استدلال کی ایک مثال وہ ہے جس کو ضابطۂ ناکارگی (Law of entropy) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادیٔ کائنات ازلی نہیں ہوسکتی۔ قدیم یونانی فلاسفہ مادہ (matter) کو قدیم مانتے تھے۔ اس کے زیر اثر مسلم فلسفی ابن رشد (وفات 1198ء) نے مادہ کو قدیم مان لیا۔ مگر مادہ کی قدامت کا نظریہ اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق ، خدا اور مادہ دونوں قدیم ہو جاتے ہیں، جب کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق، خدا قدیم اور ازلی ہے، اور مادہ بعد کی تخلیق۔ یہ جدید دریافت اسلامی عقیدے کے حق میں سائنسی تصدیق (scientific affirmation) کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضابطۂ ناکارگی کے قانون کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ’مذہب اور جدید چیلنج‘ صفحہ 55۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page