Urdu book · اظہارِ دین

ایک یادگار دن

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر کی بات نظریاتی اعتبار سے ذہنی فریم ورک سے تعلق رکھتی ہے۔ اب اس معاملے کے دوسرے پہلو کو لیجیے، یعنی وہ مسئلہ جس کو عملی فریم ورک کہا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے معاملے میں مسلمان موجودہ زمانے میں اتنے اجنبی ہو گئے ہیں کہ موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں کو وہ آج کی دنیا کے لیے ناموزوں (misfit) نظر آتے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اس کا سبب دوبارہ یہ ہے کہ اس معاملے میں بھی دوسرے دور کا فریم ورک تیسرے دور میں بھی بدستور جاری رہا۔ حالانکہ تیسرے دور میں ضرورت تھی کہ اس پہلو سے قدیم ڈھانچے پر نظرثانی کی جائے اور اس کو جدید مُسَلّم ڈھانچے کے مطابق بنایا جائے۔ اس نظرثانی کا تعلق عقائد میں نظرثانی سے نہیں ہے، بلکہ منہاج (method) میں نظرثانی سے ہے۔ عقائد ہمیشہ ابدی ہوتے ہیں، ان میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ مگر منہاج (method) کا تعلق حالات سے ہے۔ فقہ کا مُسَلّم اصول اسی منہاج کے پہلو سے ہے۔ وہ فقہی اصول یہ ہے کہ: تَغَيُّرُ الْأَحْكَامِ بِتَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ (زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں)۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بار بار مخالف گروپ کی طرف سے قتال کا چیلنج پیش آیا، مگر آپ نے اس کے جواب میں مختلف رویہ اختیار کیا۔ مثال کے طور پرکی حالات میں آپ نے ہجرت کا طریقہ اختیار فرمایا، یعنی ٹکراؤ کے مقام کو چھوڑ دینا۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر آپ نے خندق (trench) کا طریقہ اپنایا، یعنی اپنے اور مخالف کے درمیان ایک حاجز (buffer) قائم کر دینا۔ اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ٹکراؤ سے اعراض کرنے کے لیے فریقِ مخالف کی یک طرفہ شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اُن سے صلح کر لی، وغیرہ۔ جمہوریت کا تعلق عملی معاملات سے ہے۔ اور اجتماعی نوعیت کے مشترک معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں جو صورتِ حال پیش آتی ہے، وہ نہ خیر مطلق ہوتی ہے اور نہ شر مطلق، بلکہ اُن میں دونوں قسم کے پہلو شامل رہتے ہیں۔ اس لیے اس طرح کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page