Urdu book · اظہارِ دین

ایک یادگار دن

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی معاملے کو آئیڈیل کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ عملی افادیت کے نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اس طرح کے کسی معاملے میں بہترین اصول یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problems, avail the opportunities. موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں نے قربانی کی حد تک غیر معمولی سرگرمیاں دکھائیں، لیکن ان سرگرمیوں کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ رہنما اپنی سرگرمیوں میں مذکورہ حکمت کو ملحوظ نہ رکھ سکے ۔ وہ ہر جگہ مسائل سے ٹکراتے رہے، اور مبنی بر مواقع منصوبہ بندی (opportunity-based planning) کا طریقہ اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ پچھلے دو سوسال کے درمیان مسلم دنیا میں جو سرگرمیاں جاری رہی ہیں، ان کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس پوری مدت میں مسلم رہنما ٹکراؤ کے اصول پر عمل کرتے رہے۔ ہر مقام پر انھوں نے ایک مسئلہ (problem) دریافت کیا اور اس پرابلم سے ٹکرانے میں اپنی ساری طاقت صرف کردی۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ جب تک یہ پرابلم ختم نہ ہو، اُس وقت تک کوئی مثبت کام نہیں کیا جاسکتا ــ کہیں یہودی پرابلم، کہیں برٹش پرابلم، کہیں امریکن پرابلم، کہیں نو آبادیاتی پرابلم، کہیں ہندو پرابلم، کہیں ظالم حکومت کا پرابلم، کہیں کوئی اور پرابلم، یہی ہر جگہ مسلم رہنماؤں کا نشأۂ عمل بنارہا۔ اس طریق کار کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا۔ خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی عطا فرمائی ہے۔ انسان کو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرنے کا بھی اختیار ہے، اور اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اپنی خداداد آزادی کو غلط طور پر استعمال کرے۔ انسان کی اس آزادی کو صرف قیامت منسوخ کرے گی ۔ اس سے پہلے کوئی شخص اس کو منسوخ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ موجودہ دنیا کے تمام مسائل اسی انسانی آزادی کے غلط استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ چوں کہ ہم انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کر سکتے، اس لیے ہم یہ بھی نہیں کر سکتے کہ اُن چیزوں کو دنیا سے ختم کر دیں جن کو ہم اپنے لیے قومی یا سیاسی مسئلہ سمجھتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page