ایک یادگار دن
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کے قائم کردہ اس تخلیقی نقشے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ہمارے لیے جو انتخاب (choice) ہے، وہ صحیح (right) اور غلط (wrong) کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ انتخاب چھوٹے شر (lesser evil) اور بڑے شر (greater evil) کے درمیان ہے۔ کسی صورت حال میں ہمارے عمل کی منصوبہ بندی اس تصور کے تحت نہیں ہو سکتی کہ ہم یہ دیکھیں کہ اصولی اعتبار سے درست کیا ہے اور نادرست کیا، اور پھر جو چیز ہمیں اصولی طور پر درست نظر آئے، اس کو حاصل کرنے کے لیے ہم پُرشور جدوجہد شروع کر دیں۔ اس کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ ہم یہ دیکھیں کہ عملی اعتبار سے جو دو انتخاب ہمارے لیے ممکن ہیں، اُن میں سے کون سا انتخاب اہوَن (easier) ہے اور کون سا غیر اہون (non-easier)۔ اِسی اصول کو فقہ میں اَهْوَنُ البَلِیَّتَینِ کہا جاتا ہے، یعنی دو مصیبتوں میں سے آسان (easier) مصیبت۔ یہ فطرت کا اصول ہے۔ اِس اصول کو اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کو بلاتخیر اپنے عمل کے لیے ایک نتیجہ خیز نقطۂ آغاز (starting point) مل جاتا ہے، اور کسی صورت حال میں حقیقی نقطۂ آغاز کا ملنا کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کسی مزید نقصان میں مبتلا ہوئے بغیر نتیجہ خیز عمل شروع کر دیتا ہے اور آخرکار وہ اپنے مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ منہاج کے معاملے میں نئے ماڈل کو اختیار کیا جائے۔ یہ ماڈل اصولی طور پر نتیجہ (result) کی بنیاد پر ہوگا، یعنی جو ماڈل اسلام کے لیے بہ اعتبار نتیجہ مفید ہو، اس کو اختیار کرنا اور اُس ماڈل کو چھوڑ دینا جو نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہونے والا ہو۔ اس اعتبار سے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ جدید جمہوری ماڈل کو اختیار نہ کر سکے۔ وہ جدید جمہوری نظام میں بھی قدیم حاکمانہ ماڈل پر قائم رہنا چاہتے ہیں، حالانکہ جدید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader