Urdu book · اظہارِ دین

ایک یادگار دن

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

حالات میں عملاً یہ ممکن ہی نہیں ۔ اس قسم کے اصرار کا نتیجہ صرف دو صورتوں میں برآمد ہوگا۔ یا تو مسلمان ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں جو بلاشبہ خودکشی کے ہم معنی ہے ، یا پھر وہ منافق بن جائیں ، یعنی اپنی ذہنی سوچ کے اعتبار سے وہ حاکمانہ ماڈل کو اپناتے ہوئے ہوں اور عملی اعتبار سے مصلحت کا انداز اختیار کر کے وہ اپنے مادی مفاد کو بچانے کی کوشش کریں۔ اس معاملے میں تفصیلی مطالعے کے بعد میں نے کئی کتابیں لکھیں ۔ میں نے اپنی کتابوں میں بتایا کہ جمہوری ماڈل اگرچہ بہ ظاہر ایک نیا ماڈل ہے ، لیکن اُس میں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ ہم اپنی اسلامی حیثیت کو پوری طرح باقی رکھتے ہوئے جمہوری نظام میں اپنے آپ کو شامل کر سکتے ہیں ۔ یہاں میں چند مثالوں کی روشنی میں اس کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔ موجودہ زمانے میں جن چیزوں کی بنا پر اسلام کے بارے میں یہ عالمی تاثر قائم ہو گیا ہے کہ اسلام جدید حالات کا ساتھ نہیں دیتا ، اسلام جدید دور کے لیے ایک غیر متعلق مذہب ہے ۔ یہ تاثر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی قومی روش کی بنا پر قائم ہوا ہے ، نہ کہ اسلام کی اصل تعلیمات کی بنا پر۔ 1۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے رسول کی شان میں' گستاخی‘ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پر ان کے اوپر فرض ہے کہ وہ ایسے انسان کو قتل کر ڈالیں۔ مسلمانوں کا یہ نظریہ دورِ جدید کے تصورات سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ موجودہ زمانے کا یہ مسلّمہ ہے کہ ہر شخص کو پرامن اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔ اس آزادی کو کسی بھی حال میں ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ ٹکراؤ جدید دور اور مسلم تصورات کے درمیان ہے ، نہ کہ جدید دور اور اصل اسلامی تعلیمات کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں بھی اظہارِ خیال کی آزادی اُسی کامل درجے میں دی گئی ہے جس کو جدید دور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’شتم رسول کا مسئلہ‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ 2۔ یہی معاملہ سیکولرازم کا ہے۔ موجودہ زمانے میں سیکولرازم کو اسٹیٹ پالیسی کا معیاری ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے اسلام پسند مسلم رہنماؤں نے یہ اعلان کیا کہ سیکولرازم ،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page