ایک یادگار دن
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم سیکولر نظام کے خلاف لڑ کر اس کا خاتمہ کریں۔ لیکن یہ ٹکراؤ بھی جدید دور اور مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید دور اور اسلام کے درمیان۔ اسلام خود بھی مشترک سماج کے لیے اسی طرح سیکولر پالیسی کا حامی ہے، جس طرح جدید دور میں سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’دین کامل‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی طرح کا ایک معاملہ وہ ہے جو جمہوریت (democracy) سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے کے اسلام پسند مسلم لیڈروں نے اعلان کیا کہ جمہوریت ایک غیر اسلامی نظریہ ہے، اس لیے وہ مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف، جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ جمہوریت کا ماڈل سب سے بہتر سیاسی ماڈل ہے۔ مگر یہ ٹکراؤ بھی جدید ذہن اور موجودہ مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید ذہن اور اصل اسلام کے درمیان۔ اسلام خود بھی سیاسی تنظیم کے لیے جمہوری طریقے کا حامی ہے۔ اسلام میں تھیا کریٹک اسٹیٹ (theocratic state) کا تصور نہیں۔ اسلام مکمل طور پر جمہوری نظام کا قائل ہے، یعنی عوام کی رائے کے مطابق، سیاسی نظام کی تشکیل۔ اس موضوع کی وضاحت میں نے اپنی مختلف کتابوں میں کی ہے۔ مثلاً فکرِ اسلامی‘ اور ’مسائل اجتہاد‘ وغیرہ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک عقیدہ اور عبادت کا تعلق ہے، اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات مطلق حکم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن جہاں تک اجتماعی نظام کا معاملہ ہے، اس کا کوئی مطلق معیار نہیں۔ اجتماعی نظام کا معاملہ عوام کی اجتماعی صورتِ حال پر منحصر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: كَمَا تَكُونُونَ كَذَلِكَ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 7006)۔ یعنی، جیسے تم ہوگے، ویسے ہی تمھارا حکومتی نظام ہوگا۔ اجتماعی نظام کے معاملے میں اسلام کا اصول اس پر مبنی ہے کہ عوام یا معاشرہ کی استعدادِ قبولیت کس درجے کی ہے۔ عوام کے اندر جن اجتماعی احکام کی قبولیت کی استعداد ہوگی، اُن کو آغاز میں نافذ کیا جائے گا، لیکن جن احکام کی قبولیت کی استعداد عوام کے اندر موجود نہ ہوگی، اُن احکام کی تنفیذ کا آغاز خود قانون کے نفاذ سے نہ ہوگا، بلکہ ذہن سازی کے عمل سے ہوگا۔ اسلام کے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader