Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 284

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ایسے اسباب وجود میں آئیں گے جن کو استعمال کر کے یہ ممکن ہو جائے گا کہ اہل ایمان اسلام کے کلمہ کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادیں۔ منفی رائے کا سبب مغرب اور فکرِ مغرب کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان منفی رائے پائی جاتی ہے۔ عام طور پر مسلمان مغرب اور فکر مغرب کو اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ اسی بنا پر موجودہ زمانے کے تمام مسلمان اہل مغرب سے نفرت کرتے ہیں اور مغربی علم سیکھنے کو ایک ناپسندیدہ فعل قرار دیتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی یہ رائے حقیقت پر مبنی نہیں ہے، وہ تمام تر متعصبانہ فکر (biased thinking) کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ جس زمانے میں مغربی علم وجود میں آیا، اُسی زمانے میں ایک اور واقعہ وجود میں آیا جس کو مغربی استعمار (western colonisation) کہا جاتا ہے۔ اِسی زمانے میں مغربی قوموں، خاص طور پر برطانیہ اور فرانس، نے ایشیا اور افریقہ کے بہت سے ملکوں میں اپنا سیاسی غلبہ قائم کر لیا۔ یہ ممالک اُس وقت مسلم سلطنت کا حصہ تھے۔ اِس سیاسی واقعے نے مسلمانوں کے اندر اہل مغرب کے خلاف شدید نفرت پیدا کردی۔ اِس کے بعد جب 1948 میں برطانی حکومت نے فلسطین کی تقسیم کی اور پھر امریکا، عربوں کے مقابلے میں اسرائیل کا حامی بن گیا، تو اس کے نتیجے میں اہل مغرب کے خلاف مسلمانوں کی نفرت اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ یہ نفرت ابتدا ء قومی سطح پر ہوئی اور پھر اس کے بعد مسلمان ہر اُس چیز سے نفرت کرنے لگے جو مغرب کی طرف سے آئی ہو۔ دو چیزوں میں فرق نہ کرنا کہا جاتا ہے کہ ــ نفرت آدمی کو اندھا اور بہرا بنادیتی ہے ۔ یہی واقعہ مغرب کے معاملے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ نفرت کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو متعصبانہ ذہن پیدا ہوا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دو چیزوں میں فرق نہ کر سکے ــ مغربی علم اور اہل مغرب کی عملی کمزوریاں ۔ یہ کمزوریاں ہر قوم میں لازماً پیدا ہوتی ہیں، حتی کہ خود مسلمانوں میں بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page