Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 286

By Maulana Wahiduddin Khan

نظریات کے حوالے سے خود فکر مغرب کو غلط سمجھنے لگیں۔ اس قسم کی برائی ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے، حتی کہ خود مسلم معاشرے میں بھی۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں جن لوگوں نے حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی کو شہید کیا، ان کا کیس یہی تھا کہ انھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ اس طرح موجودہ زمانے میں آزاد مسلم ملکوں میں خود مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے، وہ خود اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ نہیں۔ یہی معاملہ غلط توجیہ کا ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں خوارج کا جو ظاہرۃ پیدا ہوا، وہ اسلام کی غلط توجیہ کا نتیجہ تھا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اسلام کی سیاسی تعبیر بھی قرآن وحدیث کی غلط توجیہ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ عصری ذہن عام طور پر مسلمان عصری ذہن کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ اس کا سبب وہی ہے جس کو اَلنَّاسُ أَعۡدَاءُ مَا جَہِلُو کہا جاتا ہے، یعنی بے خبری کی بنا پر کسی کو اپنا دشمن سمجھ لینا۔ عصری ذہن کے بارے میں عادلانہ رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت پسندانہ ذہن کے تحت اس کا تجزیہ کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے، عصری ذہن کا کیس کیا ہے۔ عصری ذہن کی اصل مغربی ذہن ہے۔ مغربی ذہن یورپ کی نشاة ثانیہ (Renaissance) کے بعد پیدا ہونے والے ذہن کا نام ہے۔ اُس دور میں کچھ ایسے افراد یورپ میں اٹھے جنھوں نے فطرت (nature) کا مطالعہ غیر روایتی انداز میں شروع کیا۔ اس سلسلے میں پہلا نمایاں نام اٹلی کے سائنس داں گیلیلیو (وفات 1642) کا ہے۔ گیلیلیو تاریخ کا پہلا شخص ہے جس نے فلکیات کے مطالعے میں دوربین (telescope) کا استعمال کیا۔ یہ 1609 کا واقعہ ہے۔ اُس زمانے میں روایتی تصور یہ تھا کہ زمین مرکز میں ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ گیلیلیو نے اپنے دور بینی مشاہدے میں جن حقیقتوں کو دریافت کیا، اُن سے یہ اخذ ہوتا تھا کہ سورج مرکز میں ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page