مغربی تہذیب کا مسئلہ
Urdu book, p. 300
By Maulana Wahiduddin Khan
ابتدائی طور پر مسلم نوجوانوں پر بظاہر ان باتوں کا اثر ہوا۔ مسلم نوجوان مغربی تہذیب کے علمبرداروں سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے مغربی تہذیب کے تحت قائم شدہ تعلیمی اداروں کو چھوڑ دیا، انھوں نے مغربی اداروں میں جاب لینے سے انکار کر دیا، وغیرہ۔ مگر بعد کو آسمان نے یہ منظر دیکھا کہ انھیں مسلم نوجوانوں نے بڑے پیمانے پر یوٹرن (U turn) لیا۔ انھوں نے اور ان کی اولاد نے مغربی تہذیب کے تحت قائم شدہ اداروں میں ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ مغربی تہذیب کے اداروں کے کارکن بن گئے۔ وہ بہت بڑی تعداد میں مسلم ملکوں سے ہجرت کر کے مغربی ملکوں میں پہنچ گئے اور وہاں سٹل (settle) ہونے پر فخر کرنے لگے۔ قدیم فتنوں اور جدید تہذیب کے فتنہ میں نتیجہ (result) کے اعتبار سے یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم طرز کے فتنے صرف اعتقادی فتنے تھے، مگر مغربی تہذیب کا معاملہ یہ تھا کہ دنیا کی مادی ترقی سے وہ براہ راست جڑا ہوا تھا۔ مغربی تہذیب کے علمبرداروں نے جو نئی دنیا بنائی، وہ مادی اعتبار سے ایک نہایت شاندار دنیا تھی۔ اس کے مکانات، اس کے شہر، اس کے دفاتر، اس کی سواریاں، اس کے سامان حیات، ہر چیز نہایت اعلیٰ معیار کی تھی۔ اسی حقیقت کو موجودہ زمانے کے ایک مسلم شاعر نے طنزیہ انداز میں اس طرح بیان کیا تھا: ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے وہاں کنسٹر سب بلوری ہیں، یاں ایک پرانا مٹکا ہے انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے ہمیشہ ترقی کا طالب ہوتا ہے۔ وہ اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے زیادہ ترقی یافتہ مستقبل دیکھنا چاہتا ہے۔ مغربی تہذیب میں یہ پہلو نہایت اعلیٰ درجے میں موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم مفکرین کی خلاف مغرب مہم ابتداءً نظری طور پر کامیاب ہو کر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ مسلم نوجوان ابتدائی طور پر رومانو کی جذبات کے تحت جدید تہذیب کے خلاف ہو گئے، مگر بعد کو جب انھوں نے دیکھا کہ ساری ترقیاں مغربی تہذیب اور مغربی علوم سے وابستہ ہیں، تو وہ سب کچھ بھول کر اس کے اوپر ٹوٹ پڑے۔ جن تعلیمی اداروں کو قتل گاہ سمجھ کر انھوں نے وقتی طور پر چھوڑ دیا تھا، وہ دوبارہ اسی میں داخل ہوئے اور انھوں نے وہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader