مغربی تہذیب کا مسئلہ
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
سے ڈگریاں حاصل کیں۔ جن مغربی قوموں کو انھوں نے مسلم دشمن قرار دیا، انھیں کے اداروں میں جاب لینے کو وہ اپنے لیے قابل فخر سمجھنے لگے۔ اُن کے بزرگوں نے جن مغربی ملکوں سے ہجرت کا فتوی دیا تھا، انھیں ملکوں میں واپس جا کر وہ پر فخر طور پر آباد ہونے لگے، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے دو حصے تھے— ایک، اس کی سائنس اور دوسرے، اس کا کلچر۔ مغربی سائنس حقائقِ فطرت کے انکشاف پر مبنی تھی۔ اُس کے اندر ذاتی طور پر غلطی کا کوئی پہلو شامل نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی سائنس، قرآن کی اس آیت کی انفوڈنگ تھی: وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ (45:13)۔ یعنی، اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ وہ قرآن کے الفاظ میں: وَآتَاكُم مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34) — اور اس نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا— کا ٹکنالوجیکل اظہار تھا۔ وہ آفاق وانفس کی آیات کی وہ تبیین تھی جس کی پیشگی اطلاع قرآن (41:53) میں دے دی گئی تھی۔ مغربی تہذیب کا دوسرا پہلو اس کا کلچر تھا۔ یہ کلچر براہِ راست طور پر سائنس کی پیداوار نہ تھا، بلکہ وہ قومی اور سماجی عوامل کی پیداوار تھا۔ قومی اور سماجی دائرے میں خالق نے ہر انسان کو آزادی دی ہے۔ اس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اس کا غلط استعمال کرے۔ مغربی کلچر کے جن پہلوؤں کو لے کر ہمارے علما نے اُس کے خلاف ہنگامہ آرائی کی، وہ دراصل آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom) کا نتیجہ تھا، نہ کہ حقیقتاً مغربی سائنس کا نتیجہ۔ اس معاملے میں ہمارے مفکرین کو اصول تمیز (principle of differentiation) کو منطبق کرنا تھا، مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے افراد ایک فتنے کے استصال کے نام پر ایک شدید تر فتنے کا شکار ہو گئے، یعنی دہر ا پن۔ اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ وہ مغربی تہذیب کے پیدا کردہ مثبت مواقع کے استعمال سے محروم ہو کر رہ گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader