ماڈرن ایج اور اسلام
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
ماڈرن ایج اور اسلام ماڈرن ایج (modern age) اور اسلام کے موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ایک نقطۂ نظریہ ہے کہ ماڈرن ایج نے نظریہ اور عمل کے سارے ڈھانچے کو بدل دیا ہے، اس لیے اب ضرورت ہے کہ اسلام پر نظرِ ثانی کی جائے ۔ اس نقطۂ نظر کا ایک نمونہ اے اے فیضی (وفات 1981) کی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہ ہے: A Modern Approach to Islam, 1982, pp. 240 دوسرا نقطۂ نظریہ ہے کہ ماڈرن ایج کوئی چیز نہیں ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام کو موجودہ زمانے میں سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہے، اس بنا پر سارے مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اسلام کو پھر سے عالمی سطح پر سیاسی غلبے کے مقام تک پہنچایا جائے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب وغیرہ کا نقطۂ نظر یہی تھا۔ اس نقطۂ نظر کے حامل افراد کا ماننا یہ ہے کہ مسلح جہاد کے ذریعے اسلام کو دوبارہ غلبہ عطا کیا جائے، اور ساری دنیا میں خلافت کا نظام قائم کیا جائے۔ میرے نزدیک اس قسم کی تمام باتیں اصل مسئلے کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔ اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ماڈرن ایج کو سمجھا جائے اور تجزئیاتی مطالعے کے ذریعے اُس کے مقابلے میں اسلام کا موقف متعین کیا جائے ۔ اس کام میں ہمارے لیے رہنما اصول، حدیث کے مطابق، یہ ہونا چاہیے کہ: خُذُ ما صَفَا وَدَعْ مَا کَدَرَ ۔ یعنی، جو چیز حق کے مطابق ہو، اُس کو لے لو اور جو چیز حق کے مطابق نہ ہو اُس کو چھوڑ دو۔ میں نے اپنے مطالعے سے یہ سمجھا ہے کہ ماڈرن ایج بنیادی طور پر تین چیزوں کا نام ہے— (1) جدید سائنسی دریانتیں (2) جدید کلچر (3) جدید فلسفیانہ افکار۔ اب میں ان تینوں کے بارے میں مختصر طور پر اپنا مطالعہ بیان کروں گا۔ 1 ۔ جدید سائنسی دریافتیں کیا ہیں۔ وہ اصلاً مغربی تہذیب یا سیکولر تہذیب کا حصہ نہیں، وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader