Urdu book · اظہارِ دین

ماڈرن ایج اور اسلام

Urdu book, p. 303

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کی دریافت ہیں۔ یہ قوانین خالقِ کائنات کے مقرر کردہ ہیں ، یعنی اُسی خدا کے مقرر کردہ جس نے قرآن کی صورت میں اپنا کلام بھیجا ہے ۔ ان سائنسی دریافتوں کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں، بلکہ وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق ہیں: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) ۔ یعنی ، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قدیم زمانے میں انسانی افکار پر توہمات کا غلبہ تھا۔ توہماتی عقائد یا قصے کہانیوں کے تحت ہر معاملے میں لوگوں نے بے بنیاد رائیں بنالی تھیں۔ سائنس نے جدید طریقے پر تحقیق کر کے چیزوں کی اصل حقیقت معلوم کی۔ ان دریافت کردہ حقائق کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں پانی کو صرف سیال برف سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے دریافت کیا کہ پانی دو گیسوں کے مجموعے سے بنتا ہے۔ پانی کا فارمولا یہ ہے (H2O)۔ اس دریافت کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔ وہ اتنا ہی زیادہ اسلامی ہے جتنا کہ وہ سائنسی ہے۔ اسی طرح شمسی نظام کے بارے میں پہلے زمین مرکزی (geo-centric) نظریہ رائج تھا۔ کوپرنیکس کے زمانے میں جدید آلات کی مدد سے جو مطالعہ کیا گیا، اُس سے یہ ثابت ہوا کہ شمسی نظام زمین مرکزی نہیں ہے بلکہ وہ آفتاب مرکزی (heleo-centric) ہے۔ یعنی آفتاب مرکز میں ہے اور زمین اور دوسرے سیارے اُس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اس نظریے کا بھی اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔ یہ نظریہ بھی اتناہی اسلامی ہے جتنا کہ وہ سائنسی ہے۔ یہی معاملہ سائنس کی اُن تمام دریافتوں کا ہے جو ثابت شدہ بن چکی ہیں۔ یہ تمام کی تمام دریافتیں خالقِ کائنات کے قانون کی دریافتیں ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ خالقِ کائنات کے تدبیرِ امر کی تفصیل ہیں (13:2) ۔ کچھ لوگ اِس معاملے میں إِسْلَامِیَّةُ الْمَعْرِفَةِ (Islamization of knowledge) کی بات کرتے ہیں ، یعنی علم کو اسلامی بنانا۔ مگر جہاں تک قطعی علوم (exact sciences) کی بات ہے، اِس قسم کا نعرہ بالکل غیر متعلق ہے۔ کیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page