Urdu book · اظہارِ دین

ماڈرن ایج اور اسلام

Urdu book, p. 304

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ قطعی علوم میں اسلامائزیشن کا کوئی مطلب نہیں۔ 2۔ دوسرا پہلو وہ ہے جو جدید کلچر سے تعلق رکھتا ہے۔ جدید مغربی کلچر دو قسم کی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ ایک وہ جو فطرت کے اصول پر مبنی ہے، اس بنا پر وہ اسلام کے لیے بھی پوری طرح قابلِ قبول ہے۔ اس کلچر کا دوسرا حصہ وہ ہے جو ذہنی بے راہ روی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، اس بنا پر وہ اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ مثال کے طور پر جدید مغربی کلچر میں انسانی احترام کو غیرمعمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اس بنا پر اُن کے یہاں نہایت اعلیٰ روایات قائم ہوئی ہیں۔ مثلاً ہر انسان کے لیے اظہار خیال کی کامل آزادی ہونا۔ ہر انسان کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر مقام ملنا۔ تنقید (dissent) کو انسان کا غیر مشروط حق قرار دینا۔ محروم (disabled) افراد کو ہر اعتبار سے برابر کا درجہ عطا کرنا، وغیرہ۔ یہ قدریں (values) اسلام میں موجود تھیں، لیکن مغربی کلچر کا یہ کارنامہ ہے کہ اُس نے ان قدروں کو باقاعدہ انسٹی ٹیوشن کا درجہ دے دیا۔ اس قسم کی چیزیں اسلام میں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنا کہ وہ جدید تہذیب میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ البتہ جدید کلچر میں بعض چیزیں ایسی ہیں جو اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں ۔ مثلاً عورتوں کے لیے عریانیت (nudity)، بے پردگی کا فیشن، باقاعدہ نکاح سے قبل لڑکوں اور لڑکیوں کا آزادانہ اختلاط، شراب کا عمومی رواج، انٹرٹین منٹ کا بے قید کلچر، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں اسلام کے مزاج کے خلاف ہیں۔ اس لیے وہ کبھی بھی اسلام کے دائرے میں قبول نہیں کی جا سکتیں۔ 3۔ تیسرا پہلو جدید دور کے فلسفیانہ افکار سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں فلسفہ اور افکار کے تحت کچھ نئے نظریات وجود میں آئے ہیں جن کو سائنسی افکار کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اُن کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں ان کو سائنس کی غلط توجیہہ وتعبیر کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں سائنسی غور و فکر کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات میں اسباب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page