Urdu book · اظہارِ دین

ماڈرن ایج اور اسلام

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

علل کا نظام ہے۔ اس کو اہل سائنس کے درمیان قانونِ تعلیل (principle of causation) کہا جاتا ہے۔ اس کو لے کر کچھ سیکولر ذہن کے لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ سائنس کی اس تحقیق نے خدا کے وجود کی نفی کردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیں تو وہ مافوق الفطری اسباب کے پیدا کیے ہوئے نہیں ہوسکتے : If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. یہ سائنس کے نام پر صرف ایک فلسفیانہ مغالطہ ہے، کیوں کہ نیچر کی دریافت صرف خدا کے طریق کار کی دریافت ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے خدا کے وجود کی نفی نہیں۔ اس فکر کا تجزیہ کرتے ہوئے میں نے اپنی کتاب مذہب اور جدید چیلنج (God Arises) میں لکھا ہے کہ۔ نیچر کائنات کی توجیہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے ایک توجیہ کی طالب ہے : Nature does not explain, she herself is in need of an explanation. یہی معاملہ عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا ہے۔ سیکولر مفکرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک سائنٹفک نظریہ ہے۔ چوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں خصوصی تخلیق کا تصور ہے، جب کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ مفروضہ ارتقائی پر اس کو خدا کا درجہ دے رہا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ارتقا کے نظریے نے خدا کے تصور کی نفی کردی ہے۔ مگر یہ سرتا سر بے بنیاد بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ صرف ایک مفروضہ ہے، وہ کوئی حقیقی نظریہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ زندگی کی بے شمار انواع جو زمین میں پائی جاتی ہیں، اُن کے اندر جسمانی مشابہت ہے۔ اس مشابہت کو لے کر یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ ایک زندہ نوع سے دوسری نوع نکلی۔ مثلاً بکری ارتقا کرتے کرتے زرافہ بن گئی، یا بلی نے ارتقا کرتے کرتے شیر کی صورت اختیار کرلی، وغیرہ۔ اس نظریے کی بنیادی کمی یہ ہے کہ اُس نے انواع کے درمیان مشابہت کا ثبوت تو پیش کیا،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page