ماڈرن ایج اور اسلام
Urdu book, p. 306
By Maulana Wahiduddin Khan
لیکن وہ اس کا کوئی بھی ثبوت پیش نہ کر سکا کہ ایک نوع کے بطن سے دوسری نوع برآمد ہوگئی۔ یہ نظریہ اتنا ہی بے بنیاد ہے جتنا یہ کہنا کہ بیل گاڑی کے اندر سے بگھی نکل آئی، بگھی کے اندر سے موٹر کار برآمد ہوگئی، موٹر کار کے اندر سے ہوائی جہاز نکل آیا اور ہوائی جہاز کے اندر سے راکٹ پیدا ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ وہ نہ کوئی سائنٹفک نظریہ ہے اور نہ اُس کی وجہ سے اسلام کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوا۔ میرے مطالعے کے مطابق، ماڈرن ایج مکمل طور پر ایک موافق اسلام ایج ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا نے انسان کے لیے اس دنیا میں دو سپورٹ سسٹم بنائے ہیں۔ ایک نیچرل سپورٹ سسٹم جو یکساں طور پر مسلسل صورت میں انسان کا مددگار بنا ہوا ہے۔ دوسرا، سوویلائزیشنل سپورٹ سسٹم جو انسان کے ذریعے ارتقائی سفر طے کرتا ہوا انسان کا مددگار بنا ہوا ہے۔ نیچرل سپورٹ سسٹم براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں سوویلائزیشن سپورٹ سسٹم انسانی عمل اور انسانی تحقیق کے ذریعے اپنا تہذیبی سفر طے کر رہا ہے۔ ماڈرن ایج دراصل اسی سوویلائزیشن سپورٹ کا ایک اگلا مرحلہ ہے۔ وہ اس لیے ظاہر ہوا ہے کہ انسان کے سفر حیات کو زیادہ کامیاب بنائے۔ یہ ماڈرن ایج انسان کے مادی سفر میں بھی مددگار ہے اور انسان کے مذہبی اور روحانی سفر میں بھی۔ اس دنیا کا ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ ہر چیز میں مثبت کے ساتھ کچھ منفی پہلو بھی ملا ہوا ہوتا ہے۔ اس قانون عام کے تحت، ماڈرن ایج میں بھی مثبت پہلو کے ساتھ کچھ منفی پہلو شامل ہے۔ بعض اسباب سے یہ حادثہ پیش آیا کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں سے ماڈرن ایج کا مثبت پہلو اوجھل ہوگیا۔ انھوں نے بس اُس کے منفی پہلو کو دیکھا اور وہ اُس کو دیکھ کر بھڑک اٹھے۔ اس معاملے میں شدید طور پر دوبارہ جائزہ (reassessment) کی ضرورت ہے۔ اگر منصفانہ طور پر جائزہ لیا جائے تو یقیناً لوگ یہ معلوم کر لیں گے کہ ماڈرن ایج ایک اسلام دوست ایج (Islam-friendly age) ہے، نہ کہ اسلام دشمن ایج۔ یہ صحیح ہے کہ ماڈرن ایج کو پیدا کرنے میں تمام تر غیر مسلم قوموں نے کام کیا ہے۔ مگر حدیث

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader