Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 307

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ اس روایت میں اِس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ سو یلائزیشنل سپورٹ کو ظہور میں لانے میں ہر آدمی کا کچھ نہ کچھ رول ہوگا۔ اِس میں صالح لوگ بھی اپنا رول ادا کریں گے اور اس کے ساتھ غیر صالح لوگ بھی۔ تاریخ اِس کی تصدیق کرتی ہے۔ مثلاً کمیونکیشن ایج جو دعوت الی اللہ کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے، اُس کو ظہور میں لانے کے لیے ہر طرح کے لوگوں نے لمبی مدت تک مسلسل کام کیا ہے۔ اس کے بعد ہی کمیونکیشن ایج واقعہ بن سکا۔ سائنس ایک موافق اسلام انقلاب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں ہوئی۔ آپ سے پہلے جو پیغمبر آئے، ان کو معجزے دیے گئے۔ یہ معجزات پیغمبروں کی اعتبار بیت (credibility) پر یقین کرنے کے لیے تصدیق مزید کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن اُن کے معاصرین نے ان معجزات کو جادو کہہ کر اُنھیں نظر انداز کر دیا۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ معجزہ مدعو کو ایک شخص کا ذاتی کرشمہ نظر آیا، وہ مدعو کے دائرہ علم کے مطابق، فریقین کے درمیان ایک متفقہ بنیاد کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اس اعتبار سے گویا کہ پیغمبر اپنے معاصرین کے نزدیک صرف ایک دعوی (claim) کرنے والا انسان تھا، اس کے دعوے کو خود اپنی معلوم بنیاد پر جانچنے کی کوئی صورت ان معاصرین کے پاس موجود نہ تھی۔ خدا یہ چاہتا تھا کہ مدعو کے لیے اس قسم کا عذر پیش کرنے کا موقع نہ رہے۔ چنانچہ خدا نے چاہا کہ داعی اور مدعو کے درمیان وہ ایک مسلمہ بنیاد کو وجود میں لائے۔ یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کو پیشین گوئی کے طور پر قرآن کی سورۃ حم السجدہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ مستقبل میں ہم اپنی نشانیاں ان کو دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر کامل طور پر کھل جائے کہ یہ (قرآن) حق ہے (41:53)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page