موافق اسلام انقلاب
Urdu book, p. 308
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی اس آیت میں جن نشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح وجود میں آچکی ہیں۔ موجودہ زمانے کے سائنسی انقلاب کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے ان نشانیوں کو پوری طرح ظاہر کر دیا ہے۔ یہ سائنسی شہادتیں دوبارہ دعوت الی اللہ کے حق میں تصدیق مزید کی حیثیت رکھتی ہیں۔ موجودہ سائنسی انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان مشترک طور پر ایک مسلّم بنیاد (bilaterally accepted ground) وجود میں آچکی ہے، جس کو استعمال کر کے حق کی دعوت کو زیادہ موثر طور پر انجام دیا جا سکے ۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ تین ہزار سال پہلے حضرت موسیٰ مصر میں آئے۔ انھوں نے وقت کے بادشاہ فرعون (Pharoah) کو توحید کا پیغام دیا۔ قرآن میں ہے کہ فرعون نے اُس کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنے وزیرِ اعظم ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک اونچا مینار بناؤ، تاکہ میں اُس پر چڑھ کر دیکھوں کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے (37-40:36)۔ اِسی طرح نکیتا خروشیف (Nikita Khrushchev) سابق سوویت یونین کے وزیرِ اعظم تھے۔ سوویت یونین نے 1957 میں پہلی بار اپنا مصنوعی سیارہ (Sputnik) زمین سے اوپر بھیجا۔ اس نے خلا میں پہنچ کر چاند کے گرد چکر لگائے اور چاند کے فوٹو لیے، اور پھر واپس زمین پر اتر آیا۔ اس کے بعد روسی وزیرِ اعظم نے مذہب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: ہمارا سیارہ خلا میں گیا، لیکن اس کو وہاں نہ خدا دکھائی دیا اور نہ خدا کی جنت۔ اِس قسم کی بات کو رد کرنے کے لیے پہلے کوئی سائنٹفک بنیاد موجود نہ تھی، مگر اب صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ اب ایک داعیٔ حق کہہ سکتا ہے کہ کائنات کو دیکھنا انسان کے لیے اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ ممکن ہی نہیں۔ جدید محققین کے مطابق، انتہائی وسیع کائنات میں جو مادہ ہے، اس کا صرف 4 فی صد حصہ ہمارے لیے قابلِ مشاہدہ (observable) ہے۔ بقیہ 96 فی صد حصہ اپنی موجودہ استعداد کے لحاظ سے ہمارے لیے قابل مشاہدہ نہیں، حتی کہ انتہائی طاقت ور دور بینوں کے ذریعہ بھی نہیں۔ اِس لیے اس کو ڈارک میٹر (dark matter) کہا جاتا ہے، یعنی انسان کی نسبت سے ناقابلِ مشاہدہ میٹر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader