موافق اسلام انقلاب
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
خلا کے بارے میں اس سائنسی دریافت نے موجودہ زمانے کے داعیٔ حق کو ایک نئے استدلال کی بنیاد فراہم کی ہے، وہ یہ کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ خدا اور جنت کے بارے میں صرف بالواسطہ علم تک پہنچ سکتا ہے۔ اس معاملے میں براہِ راست علم کا حصول انسان جیسی مخلوق کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔ قرآن کی سورہ حم السجدہ میں جو پیشین گوئی کی گئی تھی، اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان سائنسی دریافتوں نے موجودہ زمانے میں معرفتِ خداوندی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ سائنس کیا ہے۔ سائنس نیچر کے مطالعے کا نام ہے، اور نیچر مصنوعاتِ خداوندی کا نام ہے۔ اس معاملے میں انسان صانع کو براہِ راست نہیں دیکھتا، البتہ وہ مصنوعات میں غور و فکر کر کے صانع کا اندازہ کر سکتا ہے۔ انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی میں سائنسی دریافتوں کے ظہور میں آنے سے پہلے، نیچر کے بارے میں انسان کا علم بہت محدود تھا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان مصنوعاتِ خداوندی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ ایسی حالت میں وہ صانع کی عظمت کا تصور بھی نہیں کر پاتا تھا۔ اہل سائنس نے تاریخ میں پہلی بار مصنوعاتِ خداوندی کا گہرا مطالعہ کیا۔ انھوں نے دوربین اور خوردبین جیسے بہت سے طریقے ایجاد کیے، جن کے ذریعے وہ مصنوعاتِ خداوندی کا مطالعہ زیادہ گہرائی کے ساتھ کر سکیں ۔ یہ مطالعہ یورپ کی نشاة ثانیہ (Renaissance) کے بعد کئی سو سال تک جاری رہا۔ اس طرح سائنسی دریافتوں کے بعد پہلی بار ایک نیا امکان پیدا ہوا، یعنی انسان کا فریم ورک جو پہلے روایتی دور میں محدود تھا، وہ لامحدود حد تک وسیع ہو گیا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ انسان، کائنات کا وسیع تر مطالعہ کر کے زیادہ اعلیٰ درجے کی معرفت حاصل کر سکے۔ آدمی ہمیشہ اپنے فریم ورک کے دائرے میں سوچتا ہے (17:84)۔ چنانچہ سائنسی فریم ورک نے پہلی بار انسان کے لیے اس بات کو ممکن بنایا کہ وہ خالقِ کائنات کے بارے میں لامحدود حد تک وسیع سائنسی فریم ورک کے تحت سوچے اور معرفتِ اعلیٰ کے درجے تک پہنچ سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader