موافق اسلام انقلاب
Urdu book, p. 310
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی لٹریری تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عظمت محمدی پر مسلم اہل قلم نے بہت سی کتابیں لکھیں، مگر عظمتِ خداوندی پر غالباً وہ کوئی ایک کتاب بھی نہ لکھ سکے۔ کیوں کہ عظمتِ محمدی کو جاننے کے لیے اُن کے پاس ایک عظیم تاریخ موجود تھی۔ یہ تاریخ اتنی شاندار تھی کہ غیر مسلم مورخین تک کو یہ ماننا پڑا کہ محمد نے جو عظیم تاریخ پیدا کی، ویسی تاریخ کوئی دوسرا انسان پیدا نہ کر سکا۔ مگر عظمتِ خداوندی کا معاملہ ایک مختلف معاملہ تھا۔ خدا کی ہستی ہمارے لیے ایک ناقابلِ مشاہدہ ہستی تھی۔ اس لیے براہ راست خدا کو دیکھ کر اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کی عظمت کا اندازہ کرنے کے لیے صرف ایک ہی قابلِ عمل صورت تھی، وہ یہ کہ خدا کی عظمت کو اس کی تخلیق میں دیکھا جائے، یعنی ناقابلِ مشاہدہ صانع کی عظمت کا اندازہ اس کی قابلِ مشاہدہ مصنوعات کے ذریعہ کیا جائے لیکن سائنس سے پہلے انسان کو مصنوعاتِ خداوندی کا تفصیلی علم حاصل نہ تھا۔ اس محدود فریم ورک کی بنا پر اس دور میں خدا ز زیادہ ترا ایک پر اسرار عقیدہ (mysterious belief) کا مسئلہ بنارہا، نہ کہ اتھاہ عظمت و جلال کا مسئلہ، جیسا کہ فی الواقع وہ ہے۔ قبل سائنس دور میں مسلم اہل قلم نے جو کتابیں لکھیں، ان میں غالباً ایک ہی قابلِ ذکر کتاب ہے جس کا ٹائٹل بظاہر خدا کو بنایا گیا ہے۔ یہ شاہ ولی اللہ ہلوی (وفات 1762) کی کتاب ہے۔ اس کتاب کا نام حجۃ اللہ البالغہ ہے۔ اس کتاب کے ٹائٹل سے بظاہر یہ مترشح ہوتا ہے کہ یہ کتاب خدا کی عظمت پر لکھی گئی ہے، لیکن اس کتاب کو پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اس کتاب کا موضوع حجبۃ الفقہ ہے، نہ کہ حجۃ اللہ۔ مصنف کے الفاظ میں یہ کتاب اسرارِ شریعت کے موضوع پر ہے، نہ کہ خدا کی عظمت کے موضوع پر۔ خلاصہ یہ کہ جدید سائنسی انقلاب ایک موافقِ اسلام انقلاب ہے۔ جدید سائنسی مطالعے کے ذریعے فطرت کی جو حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، وہ بیک وقت دو پہلوؤں سے اسلام کے لیے ایک عظیم تائید کی حیثیت رکھتی ہیں: 1۔ فطرت کے بارے میں سائنسی دریافتوں کے ذریعے معرفت کے اعلیٰ دروازے کھلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader