متوازی عمل
Urdu book, p. 320
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو ۔ اس آیت کے مطابق ، یہ مطلوب تھا کہ قرآن کی تعلیمات کو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچایا جائے ۔ مگر قدیم زمانے میں عملاً ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ اس عالمی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ پوری دنیا کا جغرافیہ معلوم ہو۔ پرنٹنگ پریس اور کمیونیکیشن کا دور دنیا میں آجائے ، ساری دنیا میں بہ آسانی سفر کرنا ممکن ہوجائے ، لوگوں کے درمیان کھلا پن (openness) کی فضا موجود ہو، ترقی یافتہ زبانیں دنیا میں پائی جاتی ہوں، وغیرہ۔ عالمی دعوت کو ممکن بنانے کے لیے یہ تمام چیزیں لازمی طور پر ضروری ہیں۔ قدیم زمانے میں یہ اسباب موجود نہ تھے ، اس لیے قدیم زمانے میں اسلام کی عالمی اشاعت کا یہ نشانہ عملاً پورا نہیں ہوسکتا تھا۔ انیسویں صدی کے بعد کے زمانے میں پہلی بار یہ اسباب حاصل ہوئے ہیں اور ان اسباب کا حصول براہ راست مغربی تہذیب کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ 5۔ قرآن اصلا ایک کتاب دعوت ہے، لیکن دعوت کی نکات کو مدلل کرنے کے لیے قرآن میں بہت سے حوالے دیے گئے ہیں جن کا تعلق تاریخ یا عالم فطرت سے ہے۔ مگر ساتویں صدی کے ربع اول میں ان حوالوں کی ضروری تفصیلات معلوم نہ تھیں۔ اس بنا پر قرآن کے یہ حوالے عملاً صرف عقیدہ کا مسئلہ (matter of belief) بنے ہوئے تھے۔ اس قسم کی مثالیں قرآن میں بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔ مثلاً قرآن میں کائنات کے آغاز کے لیے ایک حوالہ یہ ہے : اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا (21:30) ۔ یعنی ، کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے ، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان جب بطن مادر میں ہوتا ہے تو وہ تین پردوں ۔ فی ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ (39:6) کے درمیان ہوتا ہے ۔ اسی طرح قرآن میں فرعون کے جسم کے بارے میں یہ آیت آتی ہے : فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اَيَةً (10:92) ۔ یعنی ، پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔ قرآن میں کثرت سے اس طرح کے حوالے پائے جاتے ہیں ۔ ضرورت تھی کہ اُن کے متعلق تاریخی اور سائنسی معلومات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader