متوازی عمل
Urdu book, p. 321
By Maulana Wahiduddin Khan
دریافت کی جائیں، تاکہ قرآن کے یہ بیانات انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم ہو جائیں۔ یہ کام بھی پہلی بار مغربی علوم کے ذریعے انجام پایا ہے۔ 6۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر عام تھا۔ اِس بنا پر دعوتِ حق کا کام معتدل انداز میں نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ صورتِ حال ایک سیاسی سبب کی بنا پر تھی۔ قدیم زمانے کے حکمران اپنا حق حکمرانی (mandate) مذہب کی بنیاد پر حاصل کرتے تھے، اِس لیے وہ اس کو برداشت نہیں کرتے تھے کہ اُن کے علاقے میں سلطنت کے مذہب کے سوا کوئی اور مذہب پایا جائے۔ مذکورہ آیت (9:33) میں اظہارِ دین کا ایک پہلو یہ تھا کہ حق حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے جدا کر دیا جائے۔ دورِ اول میں جو اسلامی انقلاب آیا، اُس نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا۔ یورپ کی جمہوریت اِسی عمل کی تکمیل ہے۔ مغربی جمہوریت نے یہ کیا کہ حق حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے الگ کر کے اس کو عوامی رائے سے وابستہ کر دیا۔ اِس کے نتیجے کے طور پر دنیا میں پہلی بار مذہبی امن کا دور آ گیا۔ اس دور کی باقاعدہ تکمیل اقوام متحدہ کی صورت میں ہوئی۔ جس کے تحت مذہب کے معاملے میں تشدد کو بطور اصول ممنوع قرار دے دیا گیا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے گویا دورِ جدید میں حکمتِ حدیبیہ کی عالمی توسیع ہے جو اسلامی دعوت کے حق میں ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔ 7۔ مغربی دنیا کے سیکولر اہلِ علم نے اسلام کا مطالعہ اپنے اصول کے مطابق، خالص موضوعی انداز میں کیا۔ اِس بنا پر وہ اسلام کے کئی ایسے پہلو کو دریافت کر سکے جو مسلم اہلِ علم سے اعتقادی مطالعے کی بنا پر مخفی تھے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کے سلسلے میں غیر معمولی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس مقابلے میں پیغمبر اسلام کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اِس کامیابی کو اہلِ علم عام طور پر ”فضیلتِ رسول“ کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اِس کامیابی کو فضیلتِ رسول کے خانے میں ڈالنے کا نقصان یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سے کوئی سبق نہیں ملا۔ اِس طریق مطالعے سے عام مسلمانوں کو صرف فخر کی غذا ملی۔ وہ اپنے پیغمبر کو ”فخرِ موجودات“ کہنے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader