متوازی عمل
Urdu book, p. 322
By Maulana Wahiduddin Khan
لیکن مغرب کے سیکولر اہل علم نے ان واقعات کا تجزیہ غیر جانب دارانہ ذہن کے ساتھ کیا تو انھوں نے ایک ایسی حقیقت دریافت کی جس میں تمام مسلمانوں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے کامیابی کا اعلیٰ اصول موجود تھا۔ مثلاً ایک برٹش رائٹر (E. E. Kellet) نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کے تحت لکھا ہے کہ ـــــ انھوں نے مشکلات کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں: He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E. E. Kellet, pp. 331-32, Middlesex) یہ صرف ایک تاریخی تجزیہ نہیں، اس سے زندگی کا ایک اہم اصول دریافت ہوتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو اُن کے خالق نے ایک انوکھی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے، اور وہ ہے اپنے مائنس کو اپنے پلس میں تبدیل کر لینا۔ انسانی شخصیت کا یہ امکان (potential) فطرت کا ایک عظیم عطیہ ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل کے ذریعے اس انسانی فطرت کا ایک کامیاب مظاہرہ کیا، مگر مسلمان اپنے عقیدت مندانہ مطالعے کی بنا پر اِس پہلو کو بطورِ سنت رسول اپنی زندگیوں میں شامل نہ کر سکے۔ مغربی سیرت نگاروں نے سیرت نبوی کے اس پہلو کو دریافت کر کے مسلمانوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اس کو اختیار کریں اور اس کے ذریعے اپنے منصوبوں کو حقائق کی بنیاد پر قائم کر کے اس کو کامیاب بنائیں۔ شہادتِ اعظم مغربی تہذیب کا دینِ خداوندی کے حق میں سب سے بڑا تائیدی رول یہ ہے کہ اس نے اہل اسلام کے لیے وہ ضروری اسباب فراہم کیے جن کو استعمال کر کے وہ دورِ آخر کے اُس اہم ترین رول کو کامیابی کے ساتھ ادا کر سکیں، جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے۔ شہادتِ اعظم سے مراد دعوتِ اعظم ہے۔ اِس دعوتِ اعظم کے دو پہلو ہیں ـــــ نظری اعتبار سے، اس کا اعلیٰ حجت (superior reason) پر قائم ہونا، اور وسعت کے اعتبار سے، اس کے دائرے کا عالمی (global) ہونا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader