Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 323

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح مسلم میں ایک لمبی روایت آئی ہے۔ اس روایت میں دورِ آخر کے ایک اہم رول کا ذکر بطور پیشین گوئی کیا گیا ہے۔ اس کی بابت حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) ۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک سب سے بڑی شہادت ہوگی۔ اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ’شہادت‘ سے مراد جسمانی قتل نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد نظریاتی معنوں میں ایک عظیم دعوتی رول ہے جو دورِ آخر میں انجام پائے گا۔ غالباً اس سے مراد انسانی تاریخ کے آخری زمانے کا ایک فائنل دعوتی رول ہے۔ اس دعوتی رول کی صراحت اگر چہ حدیث میں موجود نہیں ہے، لیکن قرآن وحدیث میں ایسے اشارات موجود ہیں جن پر غور کر کے اِس رول کو متعین کیا جاسکتا ہے۔ 1۔ شہادتِ اعظم کے نظری پہلو کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت سے رہنمائی ملتی ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) ۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں ’آیات‘ سے مراد تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں کو موجودہ زمانے میں مغربی سائنس دانوں نے غیر معمولی تحقیق کے ذریعے دریافت کیا۔ اس طرح دین خداوندی کی تاریخ میں ایک نیا دور آگیا۔ قبل از سائنس دور (pre-scientific era) میں جو ایمان پیغمبروں کے بتائے ہوئے عقیدہ (belief) کی حیثیت رکھتا تھا، وہ بعد از سائنس دور (post-scientific era) میں خود انسان کے اپنے دریافت کردہ علوم کے تحت ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم زمانے میں کائنات ایک پراسرار ظاہرہ بنی ہوئی تھی۔ قدیم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page