متوازی عمل
Urdu book, p. 330
By Maulana Wahiduddin Khan
حکومت کر رہا تھا، اس کا نام یہ تھا— اپوپس (Apophis) ۔ یہ بادشاہ استثنائی طور پر منفرد مزاج کا آدمی تھا۔ وہ شخصی طور پر ایسی صفات کا حامل تھا جو مطلوب منصوبے کے لیے ایک موزوں کردار کی حیثیت رکھتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدائی منصوبے کے تحت حضرت یوسف کو کنعان سے نکال کر قدیم مصر کی راجدھانی ممفس (Memphis) پہنچایا گیا۔ یہاں ایسے اسباب پیدا ہوئے جن کے تحت حضرت یوسف اُس وقت کے مصری بادشاہ کے دربار میں پہنچے۔ بادشاہ حضرت یوسف کی صلاحیت سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اُس نے اپنے ایک فیصلے کے تحت، حضرت یوسف کو مصر کے خزائن (وسائل ارض) کا انچارج بنا دیا (یوسف، 12:55)۔ حضرت یوسف کا یہ قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں یکساں طور پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بائبل کا بیان یہ ہے کہ بادشاہ نے کہا— میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب میں بزرگ تر ہوں گا : Only in regard to the throne, I will be greater than you. (Genesis 41:40) حضرت یوسف کے ذریعے مصر میں جو مثال قائم ہوئی، وہ دراصل اُس عمومی اور عالمی حالت کا ایک ابتدائی نمونہ تھا جو حضرت ابراہیم کے جاری کردہ تاریخی عمل کے نتیجے میں بعد کو زیادہ بڑے پیمانے پر قائم ہونے والا تھا۔ حضرت یوسف کے ذریعے قدیم مصر میں یہ مثال قائم ہوئی کہ اگر حاكم کے محدود سیاسی اقتدار کو تسلیم کر لیا جائے اور اُس سے کوئی تعرض نہ کیا جائے تو کس طرح ایک انسان کے لیے ہر قسم کے مذہبی دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ گویا سیاسی اداره (political institution) اور غیر سیاسی اداروں (non-political institutions) کے درمیان علاحدگی کا معاملہ تھا۔ یہ علاحدگی اللہ کے منصوبے کے عین مطابق تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو قرآن میں احسن القصص (12:3) کہا گیا ہے، یعنی بہترین قصہ (best story) ۔ قرآن کی اس آیت میں ’’بہترین قصہ‘‘ سے مراد دراصل بہترین ماڈل (best model) ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی اجتماعی زندگی کا بہترین ماڈل وہی ہے جس کا ایک ابتدائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader