متوازی عمل
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
نمونہ حضرت یوسف کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں قائم کیا گیا۔ اس معاملے کو دوسرے الفاظ میں ، اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ قدیم مستبدانہ ماڈل (despotic model) کی جگہ جمہوری ماڈل (democratic model) کو دنیا میں رائج کرنا۔ کچھ لوگ جمہوری نظام کو لادینی نظام کہتے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ جدید جمہوری نظام دراصل سیکولرزم کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے مطابق، جمہوریت عدم مداخلت کی پالیسی (policy of non-interference) کا دوسرا نام ہے، یعنی سیاسی اقتدار کے ادارے کا اس پر راضی ہو جانا کہ وہ اپنے حدود کو انتظامیہ (administration) تک محدود رکھے گا۔ نظام ملکی سے باہر جو ادارے ہیں، وہ اپنے دائرے میں مکمل طور پر آزاد ہوں گے۔ مثلاً تعلیم، صحافت، اشاعتی ادارے، اقتصادی سرگرمیاں، مذہب، دعوت و تبلیغ ، وغیرہ۔ اس میں وہ تمام پر امن سرگرمیاں شامل ہیں جن کو موجودہ زمانے میں غیر سیاسی سرگرمیاں (non-political activities) یا این جی اوز (NGOs) کی سرگرمیاں کہا جاتا ہے۔ نئی نسل کی تیاری اس سلسلے میں دوسری زیادہ بڑی منصوبہ بندی جو حضرت ابراہیم کے ذریعے چار ہزار سال پہلے شروع کی گئی، اس کا مرکز قدیم مکہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی ایک دعا میں یہ الفاظ کہے تھے: رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا (14:36) - یعنی، اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ ان الفاظ میں دراصل اُس دور کا ذکر تھا جس کو ماقبل ابراہیم دور (pre-Abraham age) کہا جا سکتا ہے۔ اس قدیم دور میں شرک تمام انسانی آبادیوں میں ایک عمومی کلچر کی حیثیت اختیار کر چکا تھا، حتیٰ کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو گیا۔ مزید یہ کہ مشرکانہ کلچر کو قدیم زمانے کی حکومتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس حکومتی حمایت کی بنا پر ایک شدید تر صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ وہ تھا اعتقادی شرک کے ساتھ اس میں حکومتی تشدد کا شامل ہو جانا۔ اعتقادی شرک اور سیاسی اقتدار کے اس اتحاد کی بنا پر وہ صورتِ حال پیدا ہوئی جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader