متوازی عمل
Urdu book, p. 332
By Maulana Wahiduddin Khan
اِس نظام جبر کو ختم کر کے نظامِ آزادی کو دنیا میں لانا ایک لمبا تاریخی منصوبہ تھا۔ اس کے لیے صرف آئیڈیالوجی کافی نہیں تھی، اس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک مطلوب ٹیم وجود میں آئے۔ یہ ٹیم ایک آئیڈیالوجی کے تحت متحد ہو، تمام ضروری شرطوں کو اختیار کرتے ہوئے یہ ٹیم ایک ہمہ گیر جدوجہد کرے، وہ انسانی تاریخ میں ایک انقلابي عمل (revolutionary process) کا آغاز کرے، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے وہ اپنا سفر شروع کرے اور پھر اللہ کی خصوصی تدبیر (management) کے ذریعے وہ اپنے منتہا (culmination) تک پہنچ جائے۔ اٹھارھویں صدی میں جو سیاسی انقلاب آگیا اور جس کے نتیجے میں جمہوری ماڈل دنیا میں رائج ہوا، وہ حضرت ابراہیم کے ذریعے جاری کردہ اسی عمل کی تکمیل کی حیثیت رکھتا تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول کی مثال پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی ۔ اُس وقت سارا عرب اسلام کے ماتحت آچکا تھا۔ پیغمبر اسلام اِس عرب ریاست کے سربراہ تھے۔ آپ نے ایک با اختیار صدر مملکت کی حیثیت سے یہ اعلان کیا کہ : لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِأَعْجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَی (مسند احمد، حدیث نمبر 23489)۔ یعنی، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت ہے، سوا تقویٰ کے۔ یہ تاریخ میں حصول جمہوریت کا پہلا باضابطہ اعلان تھا۔ اِس ریاستی اعلان کا مطلب یہ تھا کہ نظریاتی اعتبار سے، اب غیر جمہوری دور کا خاتمہ ہو گیا اور جمہوری دور کا اصولی طور پر آغاز ہو گیا۔ اس طرح تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا جو انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے بتدریج بعد کی تاریخ میں جاری رہا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader