Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 333

By Maulana Wahiduddin Khan

اِس اعلانِ جمہوریت کا ایک عملی مظاہرہ وہ تھا جو اِس اعلان کے تقریباً 10 سال بعد حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں پیش آیا۔ اُس وقت حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں مصر کا ملک مدینہ کی ریاست میں شامل ہو چکا تھا۔ اِس وقت مصر میں ایک واقعہ ہوا، وہ یہ کہ ایک عرب مسلمان اور ایک مصری مسیحی کے درمیان ایک مسئلے پر نزاع ہوئی۔ عرب مسلمان جو گورنر کا بیٹا تھا، اِس نے مسیحی کو کوڑا مار دیا۔ یہ مسیحی مصر سے چل کر مدینہ آیا۔ اُس نے خلیفہ عمر فاروق سے شکایت کی۔ خلیفہ نے گورنر اور اس کے بیٹے دونوں کو مدینہ بلوایا۔ جب وہ لوگ آگئے تو خلیفہ نے مصر کے مسیحی کو ایک کوڑا دیا اور کہا کہ گورنر کے بیٹے کو مارو۔ مسیحی نے کوڑا اپنے ہاتھ میں لیا اور گورنر کے بیٹے کو مارنا شروع کیا۔ جب وہ اچھی طرح مار چکا تو اس کے بعد خلیفہ نے مذکورہ عرب مسلمان کے باپ عمروبن العاص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مُذْ كَمْ تَعَبَّدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْوَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا (فتوح مصر والمغرب لابن عبد الحكم، صفحہ 195)۔ یعنی، اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، جب کہ ان کی ماؤں نے اُن کو آزاد پیدا کیا تھا۔ جس وقت یہ واقعہ ہوا، اُس وقت خلافت ایک ایمپائر بن چکی تھی جس کے حدود مملکت ایشیا سے افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں خلیفہ کے الفاظ محض ایک شخص کے الفاظ نہ تھے، بلکہ وہ وقت کی سب سے بڑی سلطنت کی طرف سے گویا بین الاقوامی پالیسی کا اعلان تھا۔ یہ پالیسی تاریخ میں سفر کرتی رہی۔ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے وہ تاریخ کو ایک نیا شیپ (shape) دیتی رہی، یہاں تک کہ یہ عمل یورپ تک پہنچ گیا۔ فرانس کے مشہور جمہوری مفکر روسو (J.J. Rousseau) کی کتاب سوشل کنٹریکٹ (Social Contract) 1762 میں شائع ہوئی۔ اِس کتاب میں جمہوریت (democracy) کی آڈیالوجی کو پیش کیا گیا تھا۔ روسو نے اپنی کتاب کا آغاز جس جملے سے کیا، وہ گویا خلیفہ عمر فاروق کے مذکورہ قول کا اعادہ تھا۔ روسو کی کتاب کا ابتدائی جملہ یہ تھا ــــ انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اِس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں: Man was born free, but I see him in chains.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page