متوازی عمل
Urdu book, p. 335
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئی تھی، اس کا یہ نتیجہ تھا کہ قدیم زمانے میں انسان کوئی بڑی ترقی نہ کرسکا، نہ مذہبی اعتبار سے اور نہ سیکولر اعتبار سے۔ موجودہ زمانے میں جمہوریت کا دور آیا تو اسی کے ساتھ کامل آزادی کا دور آ گیا۔ اس آزادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی تمام فطری صلاحیتیں انفولڈ ہونے لگیں۔ وہ تمام ترقیاں جن کے مجموعے کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے، وہ دراصل اسی انفولڈنگ (unfolding) کا نتیجہ ہیں۔ اسی کے نتیجے میں یہ ہوا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آ یا۔ فطرت کے اندر چھپی ہوئی سائنسی حقیقتوں کی دریافت ہوئی۔ انسان کو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کی دولت ملی۔ تاریخ میں پہلی بار وہ انقلاب آیا جس کو عالمی کمیونیکیشن (global communication) کہا جاتا ہے، وغیرہ۔ جدید تہذیب کی یہ تمام ترقیاں اسلام کے عین موافق تھیں۔ انھوں نے دین خداوندی کی اشاعت کے ایسے دروازے کھول دیے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلے تھے۔ جدید تہذیب نے اس کو ممکن بنایا کہ اسلام کی حقیقتوں کو علم انسان کی اعلی سطح پر ثابت شدہ بنایا جا سکے ۔ ان نئی دریافتوں کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ انسان اعلی سطح کی معرفت کا تجربہ کر سکے۔ اسی کے ذریعے یہ ممکن ہوا کہ اللہ کے پیغام کی اشاعت کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر انجام دیا جا سکے ۔ اسی جدید تہذیب کی بنا پر تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ عالمی سطح پر ایک دعوہ ایمپائر (Dawah empire) قائم کیا جا سکے، وغیرہ۔ یہ سب کچھ جو دورِ جدید میں ہوا، وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق ہوا۔ وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو ہر حال میں باقی رکھا جائے ۔ جو کام بھی کیا جائے، وہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے کیا جائے۔ خدا کے اسی تخلیقی منصوبے کی بنا پر ایسا ہوا کہ تہذیبی ترقیوں کے ساتھ انسان کے لیے یہ موقع باقی رہا کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے، خواہ اس کے نتیجے میں فساد کی صورتیں پیدا ہو جائیں۔ یہ دوطرفہ صورت حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی بصیرت کا امتحان تھی۔ یہاں ضرورت تھی کہ مسلمانوں کے رہنما اُس صلاحیت کا ثبوت دیں جس کو خدا کی کتاب میں فرقان (8:29) کہا گیا ہے، یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کر کے دیکھنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader