متوازی عمل
Urdu book, p. 336
By Maulana Wahiduddin Khan
اس موقع پر مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا تھا کہ وہ مغربی تہذیب اور اہل مغرب کی قومی سیاست دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھیں ۔ مغربی تہذیب، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، مغربی تہذیب نہیں ہے، بلکہ وہ خدائی تہذیب (divine civilization) ہے ۔ وہ فطرت میں چھپے ہوئے خدائی قوانین کی دریافت کے ذریعے وجود میں آئی ہے۔ وہ قوانین فطرت کا انسانی سطح پر ظہور ہے۔ فطرت کے قوانین جب انسانی ٹکنالوجی میں ڈھل جائیں تو اسی کا نام تہذیب ہوتا ہے۔ جدید تہذیب کو سمجھنے کے لیے اُسی طرح اس کو مغرب کے قومی پہلو سے الگ کر کے دیکھنا چاہیے، جس طرح اسلام کو مسلمانوں کے قومی پہلو سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے۔ دورِ جدید کے مسلم رہنما اگر اِس بصیرت کے حامل ہوتے کہ وہ جدید تہذیب اور مغربی قوم، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھتے تو یقیناً وہ پالیتے کہ جدید تہذیب اُن کے لیے ایک خدائی نعمت ہے، وہ حضرت یوسف کے 'احسن القصص کا عالمی اظہار ہے، وہ حضرت ابراہیم کے جاری کردہ عمل (process) کا براہِ راست حصہ ہے، وہ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے لائے جانے والے انقلاب کا تکمیلی مرحلہ ہے۔ جدید تہذیب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے وہ عالمی مواقع آخری حد تک کھول دیے ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کی ایک پیشین گوئی کو واقعہ بنایا جا سکے (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ آپ کی اِس پیشین گوئی کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے— إِدْخَالُ الْكَلِمَةِ فِي كُلِّ الْبُيُوتِ ۔ اوپر کے صفحات میں تاریخ کا جو جائزہ پیش کیا گیا ہے، اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ خدائی منصوبہ کیا تھا جس کو قرآن میں امامتِ ابراہیم کہا گیا تھا اور جس کے بارے میں بائبل میں یہ الفاظ آئے تھے کہ— زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی (پیدائش ، 22:18)۔ اِس خدائی اعلان کا مطلب یہ تھا کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کرے گا جو آخر کار اِس انجام تک پہنچے گا کہ انسانی زندگی میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader