متوازی عمل
Urdu book, p. 337
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی جبر کا فتنہ کامل طور پر ختم ہو جائے اور جمہوریت کے تحت ایک ایسا سیاسی نظام بنے گا جس میں دوبارہ زیادہ بڑے پیمانے پر اور عالمی سطح پر وہ حالت قائم ہو جائے گی جو حضرت یوسف کے زمانے میں قدیم مصر میں وقتی طور پر اور محدود طور پر قائم ہوئی تھی، یعنی سیاسی حکمراں کا اقتدار ’’تخت‘‘ تک محدود رہے گا۔ ’’تخت‘‘ کے سوا تمام غیر سیاسی شعبے مکمل طور پر آزاد ہو جائیں گے۔ ہر انسان کو یہ موقع ہوگا کہ وہ کامل معنوں میں مذہبی آزادی کی فضا میں جیے۔ وہ اپنے چوائس (choice) کے مطابق، جس مذہبی عقیدے کو چاہے، اختیار کرے، وہ عبادت کے جس طریقے کو چاہے، اس کے مطابق، عبادت کرے۔ مذہب کی تبلیغ واشاعت پر کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے، انسان کو مکمل معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہو، اس واحد شرط کے سوا کوئی اور شرط اس کے لیے موجود نہ ہو کہ وہ دوسرے انسانوں کو کسی بھی قسم کی عملی جراحت (physical injury) نہیں پہنچائے گا۔ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے یہی واحد ممکن ماڈل تھا جس کو اللہ کے منصوبے کے تحت بروئے کار لایا گیا۔ اس مذہبی آزادی میں یہ بات بھی اپنے آپ شامل ہے کہ تمام مواقع کار جو سیکولر لوگوں کو حاصل ہوں گے، وہ سب کے سب مکمل طور پر اہل مذہب کو بھی حاصل ہوں گے۔ مواقع کے استعمال میں مذہبی انسان اور غیر مذہبی انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ ایک مسئلے کی وضاحت انسانی زندگی کی تشکیل کا جو نقشہ اوپر بیان کیا گیا ہے، بظاہر اس میں حکومت یا سیاسی اقتدار کا معاملہ شامل نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طور پر وہ یقیناً اس میں شامل ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ اگر حکومت کے معاملے کو مذکورہ نقشہ میں شامل کیا جائے تو پورا خدائی منصوبہ تخلیق عملاً معطل ہو کر رہ جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں شعبوں میں کوئی مثبت کام نہ ہو سکے گا، نہ عبادت اور دعوت کے شعبے میں اور نہ سیاست اور حکومت کے شعبے میں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ دونوں شعبوں کی حیثیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader