Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 338

By Maulana Wahiduddin Khan

عقیدہ اور عبادت اور دعوت کا معاملہ اُس میدان سے تعلق رکھتا ہے جہاں آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ پُرامن طور پر اپنی تمام سرگرمیوں کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکے۔ اس کے برعکس، سیاست کا دائرہ ایک ایسا دائرہ ہے جہاں داخل ہوتے ہی فوراًاُس دوسرے فریق سے نزاع پیدا ہو جاتی ہے۔ سیاست کے دائرے میں ہمیشہ کوئی فرد یا گروہ اتھارٹی کی پوزیشن میں ہوتا ہے، اس لیے سیاست کے دائرے میں داخل ہونا عملاً پولیٹکل اتھارٹی سے ٹکراؤ کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ یہ ٹکراؤ اِس ماحول کو ختم کر دیتا ہے جب کہ ایک شخص عقیدہ اور عبادت اور دعوت کے میدان میں موجود مواقع کو استعمال (avail) کر سکے۔ خدا کے منصوبہ تخلیق میں اس مسئلے کا حل یہ مقرر کیا گیا کہ سیاسی اقتدار کے شعبے کو عقیدہ سے وابستہ کرنے کے بجائے اس کو سماجی حالات (social conditions) سے وابستہ کر دیا جائے، یعنی کسی وقت سماج کے جو حالات ہوں اور انسانوں کے درمیان جس سیاسی ڈھانچے پر اتفاق ہو سکتا ہے، اس کو اختیار کر لیا جائے۔ یہ صورت حال جاری رہے گی، یہاں تک کہ سماج کے حالات بدل جائیں اور سیاسی ڈھانچے کے بارے میں کوئی دوسرا نقشہ لوگوں کے لیے قابلِ قبول بن جائے۔ اِس حکمت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (42:38)، یعنی، ان کا معاملہ اُن کے آپس کے مشورے کے تابع ہے۔ اِس آیت میں ’امر‘ سے مراد اقتدار کا معاملہ ہے۔ اِس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا معاملہ کسی مخصوص عقیدے کے تابع نہ ہو، بلکہ وہ لوگوں کی آزاد رائے کے تابع ہو۔ آج کل کی زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی ادارے کا معاملہ عوامی الیکشن کے تابع ہے۔ فری اینڈ فیر الیکشن (free and fair election) کے ذریعے جو لوگ منتخب ہوں گے، اُن کو حق ہوگا کہ وہ اُس وقت تک حکومت کا نظام چلائیں جب تک لوگوں کی رائے بدلہ نہ جائے اور سماجی حالات کا یہ تقاضا ہو کہ اقتدار کی زمام کچھ دوسرے لوگوں کے حوالے کی جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: كَمَا تَكُونُونَ؛ كَذَلِكَ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ (شعب الایمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page