Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 339

By Maulana Wahiduddin Khan

للبیہقی ، حدیث نمبر 7006)۔ یعنی ، جیسے تم ہوگے ، ویسے تمھارے حکمران ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ حکمران کا تعین کسی مخصوص عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہوگا ، بلکہ اس کا تعین لوگوں کی رائے (vote) کے ذریعے کیا جائے گا۔ یہ ایک قسم کے سماجی بندوبست (social settlement) کا معاملہ ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ زندگی کے دونوں شعبوں (سیاسی اور غیر سیاسی) میں امن کا قیام ممکن ہو جاتا ہے ۔ عقیدہ اور عبادت اور دعوت کے میدان میں لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ پرامن طور پر اپنی تمام سرگرمیوں کو جاری رکھیں ، وہ اپنے حق میں مواقع کا بھر پور استعمال کریں۔ دوسری طرف ، سماج کے ہر گروہ کو یہ موقع حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ سماج کے اندر اپنے افکار کی پر امن اشاعت کر سکے اور پھر اگلے الیکشن کے موقع پر، حسب حالات، وہ اپنی پرامن کوششوں کا فائدہ اٹھائے۔ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے سماجی بندوبست کا اس سے بہتر کوئی نظام ممکن نہیں۔ خاتمہ کلام جیسا کہ عرض کیا گیا ، اللہ تعالی کا یہ منصوبہ تھا کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کیا جائے جس کے نتیجے میں سیاست کے جبری ماڈل (despotic model) کا خاتمہ ہو جائے اور اس کے بجائے سیاست کا جمہوری ماڈل (democratic model) عمومی طور پر رائج ہو جائے ۔ اس مطلوب ماڈل کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) حضرت یوسف کے ذریعہ قدیم مصر میں محدود طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک وسیع تر عمل جاری کیا گیا جو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنے منتہا تک پہنچا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی مذکورہ ابراہیمی عمل کی تکمیل کی صدی ہے۔ اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں اور یہ عمل اب اس حد تک مکمل ہو چکا ہے کہ آج تمام مواقع دعوت الی اللہ کے حق میں پوری طرح کھل چکے ہیں۔ اب ہر اعتبار سے ، وہ وسائل اور مواقع حاصل ہو چکے ہیں ، جب کہ کسی رکاوٹ کے بغیر فکری سطح پر اللہ کے دین کا عالمی اظہار اپنی مطلوب صورت میں کیا جا سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page