متوازی عمل
Urdu book, p. 340
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اسلام کی تاریخ کا شاید یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ اس دور میں جو بڑے بڑے مسلم ذہن پیدا ہوئے، وہ اس واقعے سے بالکل بے خبر رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس دور میں پیدا شدہ عظیم مواقع کو استعمال بھی نہ کر سکے۔ اس المیہ کا سبب بنیادی طور پر صرف ایک تھا، اور وہ ایک اتفاقی مطابقت (coincidence) ہے۔ اس اتفاقی مطابقت کا یہ نتیجہ تھا کہ تاریخ کا عظیم ترین امکان غیر استعمال شدہ امکان (unavailed opportunity) بن کر رہ گیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مذکورہ ابراہیمی عمل کی تکمیل ہوئی تو یہ اٹھارھویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ تھا۔ عین اُس زمانے میں ایک حادثہ پیش آ گیا۔ وہ حادثہ یہ تھا کہ اسی زمانے میں مغربی قوموں نے بڑی بڑی مسلم سلطنتوں کو توڑ دیا اور پوری مسلم دنیا میں اپنا سیاسی اور تہذیبی دبدبہ قائم کر لیا۔ یہ حادثہ مسلمانوں کی قومی نفسیات کے لیے ایک ایٹی دھماکہ سے بھی زیادہ دھماکے کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ اس دور کے تمام مسلمان، غالباً کسی استثنا کے بغیر، شدید طور پر منفی ردعمل کا شکار ہو گئے۔ وہ مغربی قوموں سے نفرت کرنے لگے۔ انھوں نے مغربی قوموں کے خلاف فکری یا عملی جنگ چھیڑ دی۔ یہ رد عمل اتنا شدید تھا کہ مغربی قوموں کو نقصان پہنچانے کے لیے وہ خود کش بم باری (suicide bombing) کو بھی اپنے لیے جائز سمجھنے لگے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں پیدا ہونے والا مسلم لٹریچر، تقریبا ً سب کا سب، اسی نفرت کی نفسیات سے بھرا ہوا ہے۔ اس لٹریچر کے مطابق، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا جوڈہن بنا، وہ یہ تھا گویا کہ ساری مغربی دنیا صرف ایک کام میں مشغول ہے — مسلمانوں کے خلاف سازش اور دشمنی۔ اس معاملے کی ایک علامتی مثال ایک عرب عالم کی کتاب ہے، جس کا ٹائٹل یہ ہے: اجنحۃ المکر الثلاثۃ وخوافيها: التبشير، الاستشراق، الاستعمار لعبد الرَّحمن حَسَنٌ حَبَنَّكَةَ الْمَيْدَانِي (دار القلم، دمشق: 2000، صفحات: 776)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader