Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 346

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی قوم کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ پھر اسی قوم کے اندر کام کرکے وہ ٹیم بنی جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ یہ پورا معاملہ ایک خدائی منصوبے کے تحت وجود میں آیا۔ مکہ میں مقدس کعبہ کی تعمیر اسی منصوبے کا ایک حصہ تھی۔ بعد کو سارے عرب میں شرک پھیل گیا۔ یہ قبائلی دور تھا۔ ہر قبیلے کا ایک الگ بت تھا۔ چنانچہ یہاں ایسے اسباب پیش آئے کہ کعبہ 360 بتوں کا مرکز بن گیا۔ یہ قدیم تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ اس سبب سے یہ ممکن ہوگیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کی اشاعت کے لیے سارے عرب میں سفر نہ کرنا پڑے، بلکہ مکہ ہی میں آپ کو تمام قبائل کے نمائندے حاصل ہوجائیں۔ کیوں کہ کعبہ میں تمام قبائل کے بتوں کی موجودگی کی بنا پر ایسا ہوتا تھا کہ مکہ میں مسلسل طور پر وہ چیز ہوتی رہتی تھی جس کو آج کل کی زبان میں کل عرب اجتماع (all Arab assembly) کہا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد بار بار ایسے واقعات پیش آئے جن کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ممکن ہوگیا کہ وہ تیز رفتاری کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل کرسکیں ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت پر غور کیجیے۔ غزوہ بدر کی نسبت سے، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: لِیَقۡطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا اَوۡ یَکۡبِتَہُمۡ (3:127) یعنی تاکہ اللہ اہل کفر کے ایک حصے کو کاٹ لے یا وہ اُن کو ذلیل کردے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں ”طَرْف“ کا لفظ حصۂ بہتر (better part) کے معنی میں ہے، یعنی اہل کفر کے بہتر حصے کو کاٹ کر جدا کردینا اور ’یکبتہم‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بقیہ حصہ کو ہلاک کرکے ختم کردینا۔ ٹھیک یہی واقعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا۔ پہلے مکی دور کی تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد کے دوران مکہ کے صالح افراد کو ایمان کی توفیق ملی اور وہ اسلام قبول کرکے پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گئے۔ ’قطع طرف‘ کا یہی واقعہ ہے جس کا ذکر حضرت خالد بن الولید نے ان الفاظ میں کیا تھا: دَخَلَ النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ بِهِ طَعْمٌ (دلائل النبوة للبيهقى، جلد 4، صفحہ 345)۔ یعنی، مکہ کے بہترین افراد اسلام میں داخل ہوگئے۔ اب مکہ میں کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page