Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 347

By Maulana Wahiduddin Khan

باذوق آدمی (man of taste) باقی نہیں رہا۔ 'یکبتهم' کا لفظی مطلب ہے ذلیل کرنا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ مکہ کے مخالفین جو چڑھائی کر کے ایک ہزار کی تعداد میں مدینہ آئے تھے، اُن کے 70 طاقت ور افراد قتل ہو گئے اور اُن کو ذلیل وخوار ہو کر مکہ واپس جانا پڑا۔ عرب کا اسلامائزیشن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں جو کامیابی حاصل ہوئی، اس میں ایک بڑا دخل اُس واقعے کا ہے جس کو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انوکھی تدبیر تھی جس کو پوری تاریخ میں کسی نے استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ مکمل طور پر ایک اجتہادی تدبیر تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ یہ زمانہ جارحانہ شرک اور مذہبی عدم رواداری (religious ntolerance) کا زمانہ تھا۔ اس بنا پر وہاں فریق ثانی کی طرف سے مسلسل طور پر ٹکراؤ اور جنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس طرح کے ماحول میں دعوت توحید کا کام پوری طرح نہیں ہو سکتا تھا۔ توحید کی آڈیالوجی پیغمبر اسلام کے مشن کی سب سے بڑی طاقت تھی، مگر طرفین کے درمیان تشدد کے ماحول کی بنا پر یہ موقع نہ تھا کہ یہ طاقت پوری طرح ظاہر ہو اور لوگوں کو مسخر کرے۔ اُس وقت اللہ کی خصوصی توفیق سے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی تدبیر کی جس کی کوئی نظیر تاریخ میں موجود نہ تھی۔ وہ تدبیر یہ تھی کہ فریق ثانی کے تمام مطالبات کو یک طرفہ طور پر مان لیا جائے، تاکہ فریقین کے درمیان معتدل ماحول قائم ہو جائے اور کسی رکاوٹ کے بغیر دعوت توحید کا کام انجام پا سکے۔ یہ تدبیر بلاشبہ ایک عظیم تدبیر تھی، اسی لیے اُس کو قرآن میں فتح مبین (48:1) کہا گیا ہے۔ یعنی، کھلی فتح۔ صلح حدیبیہ کی اس تدبیر سے دو بڑے فائدے حاصل ہوئے۔ ایک، یہ کہ صلح حدیبیہ سے پہلے فریقین کا مقابلہ میدانِ جنگ میں ہوتا تھا، اور جنگ کا طریقہ صرف مسئلے کو بڑھاتا ہے، وہ مسئلے کو کم نہیں کرتا۔ صلح حدیبیہ کا یہ فائدہ ہوا کہ طرفین کا مقابلہ عقل اور فطرت کے میدان میں ہونے لگا، اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page