Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 348

By Maulana Wahiduddin Khan

جب عقل اور فطرت کے میدان میں مقابلہ ہو تو توحید کی آئیڈیالوجی ہمیشہ غالب رہے گی۔ وہ عقل کو ایڈریس کرے گی اور انسان کی فطرت مسخر ہوتی چلی جائے گی۔ اسی کا یہ نتیجہ تاریخ نے دیکھا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد صرف دو سال کے اندر پیغمبر اسلام کے پیروؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ صرف تعداد ہی مکہ کی پرامن فتح کے لیے کافی ہوگئی۔ صلح حدیبیہ کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ قریش مکہ کی طرف سے جنگ کا خطرہ باقی نہیں رہا۔ اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنے مشن کو پورے عرب میں پھیلا سکیں ۔ اس سے پہلے یہ واقعہ پیش آیا کہ پیغمبر اسلام کا دعوتی پیغام تمام عرب قبائل میں پھیل گیا تھا۔ عمومی طور پر لوگوں کے دلوں میں توحید کے لیے نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہو چکا تھا، لیکن قریش سے حالتِ جنگ قائم ہونے کی بنا پر پیغمبر اسلام کو یہ موقع نہیں مل رہا تھا کہ آپ کھلے طور پر اس دعوتی امکان کو استعمال کریں۔ اب آپ نے یہ کیا کہ مدینہ سے تمام عرب قبائل کی طرف وفود بھیجنے شروع کیے ۔ وفود کا یہ طریقہ بھی قدیم زمانے میں ایک نیا طریقہ تھا۔ یہ طریقہ کامیاب ہوا اور بہت کم مدت میں پورا عرب اسلامائز ہو گیا۔ پیغمبر اسلام کا مشن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی لمبی تاریخ کی ایک درمیانی کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ سے پہلے کثیر تعداد میں خدا کے پیغمبر آئے ۔ ان پیغمبروں کے زمانے میں بلا شبہ توحید کا فکری اظہار ہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر عملًا کوئی فکری انقلاب برپا نہ ہوسکا۔ اسی بنا پر پچھلے پیغمبروں کا لایا ہوا دین محفوظ بھی نہ رہا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے اللہ نے ایک نئی منصوبہ بندی کی ۔ وہ منصوبہ بندی یہ تھی کہ صحرائی ماحول میں ایک نئی نسل پیدا کی جائے جس کے افراد اپنی اصل فطرت پر قائم ہوں۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا اور آپ کی دعوتی جدوجہد کے ذریعے اسی نسل کے اندر سے وہ افراد پیدا ہوئے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page