Urdu book · اظہارِ دین

متوازی عمل

Urdu book, p. 349

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے تاریخ میں جو انقلاب آیا، اُس کے دو پہلو تھے ایک، یہ کہ اس کے ذریعے خدا کی کتاب محفوظ ہوگئی۔ پیغمبر کے ذریعے انسانی زندگی کا ایک مستند ماڈل (authentic model) تیار ہو گیا۔ خدا کے دین کی ایک مستند تاریخ بن گئی، جب کہ اس سے پہلے خدا کے دین کی کوئی مستند تاریخ نہیں بنی تھی، وغیرہ۔ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو عظیم انقلاب آیا، اُس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا طاقت ور عمل (strong porcess) جاری ہوا جو آخر کار اُن تمام ترقیوں تک پہنچا جن کو عام طور پر اہل مغرب کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ تمام ترقیاں خدا کے دین کے موافق ترقیاں تھیں ۔ ان ترقیوں کے ذریعے انسان کو شکر کا اعلیٰ فریم ورک ملا۔ ان ترقیوں کے ذریعے معرفت کے آفاقی دروازے کھلے۔ ان ترقیوں کے ذریعے حق کی عالمی اشاعت کے ذرائع حاصل ہوئے، وغیرہ۔ غیر خدا پرست انسان کی تائید پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اظہارِ دین اور اتمامِ نور کا جو خدائی منصوبہ تھا، وہ ایک عظیم عالمی منصوبہ تھا۔ وہ اتنا بڑا منصوبہ تھا کہ صرف اہل ایمان کی مدد سے وہ انجام نہیں پاسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اِس انقلاب کو یقینی بنانے کے لیے یہ کیا کہ اہل ایمان کے علاوہ، دوسرے گروہوں سے تائید (support) کا کام لیا۔ اسلام کی تاریخ میں اس طرح کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ یہاں وضاحت کے لیے صرف دو مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں مکہ میں ہوئی ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، یہاں تائید کا ایک انوکھا معاملہ پیش آیا۔ مکہ میں قریش کے نام سے ایک قبیلہ تھا جو کعبہ کا متولی تھا۔ اُس نے اپنی سیادت کی توسیع کے لیے یہ کیا کہ عرب کی سرزمین میں موجود تمام قبائل کے بت لا کر کعبہ کی عمارت میں رکھ دیے ۔ اس طرح دھیرے دھیرے کعبہ تمام عرب قبائل کا ایک عبادتی مرکز بن گیا۔ ہر قبیلے کے لوگ اپنے بت کی زیارت اور پرستش کے لیے مکہ آنے لگے۔ اس طرح مکہ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page